50

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہائی کورٹ حملہ کیس میں گرفتار 4وکلا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے پولیس سے 7دن میں مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ اسی عدالت نے ملزمان کی جانب سے ضمانت بعد گرفتاری کی درخواست پر بھی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ہائی کورٹ حملہ کیس میں گرفتار 4وکلا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے پولیس سے 7دن میں مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ اسی عدالت نے ملزمان کی جانب سے ضمانت بعد گرفتاری کی درخواست پر بھی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس میں گرفتار 4وکلا محمد شعیب، نوید حیات ملک، ظفر علی وڑائچ اور نازیہ بی بی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن کے روبرو پیش کیا۔ عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جبکہ پولیس کو ایک ہفتے کے اندر مقدمے کا چالان پیش کرنے کی ہدائت کی۔ ملزمان کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست بھی دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف درج کیا جانے والا مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ ملزمان اسلام آباد بار کے معزز ممبر ہیں اور انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ملزمان سے تاحال کچھ بھی برآمد ہوا نہ ہی کوئی کرمنل ریکارڈ ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سیاسی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا، جس کی تفتیش بھی نہیں کی گئی۔کیس کے فیصلے تک ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں