**خبر**
**“سپہ سالار اعلیٰ” اردو کا درست لفظ نہیں، مبشر زیدی کا تنقیدی تبصرہ**
**اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)**
سوشل میڈیا پر پاکستان آرمی چیف کے لیے استعمال ہونے والے سرکاری و میڈیا لفظ “سپہ سالار اعلیٰ” پر زبان دانوں اور صحافیوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
جمعہ کو معروف صحافی **مبشر زیدی** نے اپنے X (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا:
> “سپہ سالار اردو کا لفظ نہیں ہے۔ اور سالار اعلیٰ تو کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ باقی اٹھانے پر آئیں تو کرشمہ ساز بھی کہہ لیں۔”
اس پوسٹ پر **حیدر نقوی** نے جواب دیتے ہوئے کہا:
> “بری : سالار (فوجی تناظر میں)
> سربراہ : اعلیٰ (سب سے اونچا عہدہ)”
حیدر نقوی نے مزید لکھا کہ “سالار” فوجی زبان میں استعمال ہوتا ہے، لیکن “سالار اعلیٰ” درست امتزاج نہیں ہے۔ ان کے مطابق “سربراہ اعلیٰ” زیادہ مناسب ہوگا۔
### تنازع کی وجہ
پاکستان میں آرمی چیف کو اکثر “سپہ سالار اعلیٰ” کہا جاتا ہے، جو سرکاری اعلامیوں، میڈیا اور تقریروں میں عام ہے۔ تاہم زبان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لفظ **فارسی-اردو** کے درست قواعد کے مطابق نہیں بنا۔ “سپہ سالار” تاریخی طور پر فوجی کمانڈر کو کہا جاتا تھا، لیکن “اعلیٰ” کے ساتھ ملا کر “سپہ سالار اعلیٰ” ایک نیا اور غیر معیاری امتزاج بن گیا ہے۔
مبشر زیدی کا تبصرہ وائرل ہو رہا ہے اور لوگ اس پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے محض زبان کی نزاکت قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے سرکاری زبان کو درست کرنے کی اہم نشاندہی سمجھ رہے ہیں۔
ابھی تک پاکستانی فوج یا سرکاری سطح سے اس تنقید پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
—–
**نوٹ:** یہ خبر مبشر زیدی اور حیدر نقوی کے X پوسٹس پر مبنی ہے۔ زبان کے استعمال پر عوامی بحث پاکستان میں نئی نہیں، خاص طور پر سرکاری اور فوجی اصطلاحات کے حوالے سے۔