اکمل مرزا: ایک روشن چراغ جو اچانک بجھ گیا
تحریر: لطیف شاہ
ایک کونپل کو پنکھڑی اور پنکھڑی سے کھلتے ہوئے پھول بننے میں وقت لگتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کے عروج پر پہنچ کر یوں رخصت ہو جاتے ہیں جیسے ہوا میں اڑتا کوئی تنکا اچانک نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ اکمل مرزا بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ سیاست کے بے رحم میدان اور تاریخ کے سخت صفحات پر کرداروں کا جائزہ مختلف زاویوں سے لیا جا سکتا ہے، مگر جب کوئی مخلص، محبت کرنے والا اور دلوں میں گھر کر جانے والا انسان بچھڑ جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
گلی، محلہ، بازار اور راولپنڈی کا تاریخی گورڈن کالج آج بھی ان کی یادوں سے آباد ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تمام جگہیں ان کی جدائی پر نوحہ کناں ہوں اور ہمیں یاد دلا رہی ہوں کہ صبرِ جمیل ہی وہ قوت ہے جو انسان کو ایسے عظیم صدموں کے بعد سنبھالتی ہے۔
اکمل مرزا ایک ایسے بااصول گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہاں محنت، دیانت اور جدوجہد خاندانی روایت تھی۔ ان کے بڑے بھائی افضل مرزا پی آئی اے مزدور یونین کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ اسی ماحول میں پرورش پانے والے اکمل مرزا نے طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی اختیار کی اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی نمایاں رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔
وہ روایتی سیاست دانوں سے مختلف شخصیت کے مالک تھے۔ خوش اخلاق، خوش مزاج، شفیق اور ہنس مکھ اکمل مرزا ہر محفل کی رونق ہوتے تھے۔ ان کی یہی منفرد شخصیت اور قیادت کی صلاحیت سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کی نظر میں آئی، جنہوں نے انہیں قومی سیاست کے مرکز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جب معاشرے میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے “پاسبان” کی تحریک اٹھی تو اکمل مرزا اس کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ آسیہ ایوب کیس کے دوران انہوں نے بے باکی سے آواز بلند کی اور نوجوانوں میں ایک نئی توانائی پیدا کی۔
راولپنڈی کی سیاسی تاریخ میں وہ دور آج بھی یاد کیا جاتا ہے جب اکمل مرزا کی قیادت میں نوجوانوں کا ایک بڑا قافلہ ظلم کے خلاف متحد ہوا اور “پاسبانِ عوام” کا نعرہ شہر کی گلیوں اور چوراہوں میں گونجنے لگا۔ بعد ازاں 1993ء کے عام انتخابات میں پاکستان اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی۔ اگرچہ وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے، لیکن ان کی مہم اور عوامی پذیرائی نے ملک بھر میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا۔
سیاست کے نشیب و فراز نے انہیں مختلف جماعتوں تک بھی پہنچایا، مگر ان کی اصل شناخت کسی جماعت سے زیادہ ان کا وہ ضمیر تھا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے معمور تھا۔
پھر کورونا وبا کا وہ اندوہناک دور آیا جس نے دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کو سوگوار کیا۔ بدقسمتی سے اکمل مرزا بھی اسی وبا کا شکار ہو گئے اور یہ روشن چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔ ان کی رحلت نے دوستوں، ساتھیوں اور چاہنے والوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا۔
شاعر نے شاید ایسے ہی کسی لمحے کے لیے کہا تھا:
یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں، یہاں موتیوں کی دکان تھی
یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں، یہاں بادلوں کی اڑان تھی
جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن، یہاں جگنوؤں کے مکان تھے
آج اکمل مرزا کی یاد دل میں ایک مستقل کسک بن کر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی سماجی، سیاسی اور انسانی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔
“کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو سوچ لینا،
کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں،
اگر کبھی میری یاد آئے…