عبدالحمید لون کا برطانوی پارلیمنٹرینز کو آزاد کشمیر کی صورتحال پر خط، حقائق پر مبنی جائزے کا مطالبہ
اسلام آباد / لندن، 11 جون 2026:
فرینڈز آف کشمیر کے وائس چیئرمین عبدالحمید لون نے برطانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن اور آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین عمران حسین سمیت ایک درجن سے زائد برطانوی پارلیمنٹرینز کو خط ارسال کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور معاملے کا حقائق، شواہد اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔
خط جن پارلیمنٹرینز کو ارسال کیا گیا ان میں عمران حسین ایم پی، اینڈریو گوین ایم پی، پال براسٹو ایم پی، لارڈ واجد خان، لارڈ شفق محمود، لارڈ قربان حسین، ناز شاہ ایم پی، یاسمین قریشی ایم پی، خالد محمود ایم پی، افضل خان ایم پی، محمد یاسین ایم پی اور ڈیبی ابراہمس ایم پی شامل ہیں۔
عبدالحمید لون نے اپنے خط میں کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) ابتدا میں تاجروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے عوامی مسائل، مہنگائی، بنیادی سہولیات اور فلاحی مطالبات کے حل کے لیے قائم کی گئی تھی اور اسے عوامی شکایات کے پُرامن اظہار کا ایک مؤثر پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ بعض مبصرین اور ناقدین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم کی قیادت اور ترجیحات میں تبدیلی آئی اور بعض قوم پرست و علیحدگی پسند عناصر کے اثر و رسوخ میں اضافے کے باعث اس کی سمت اپنے ابتدائی فلاحی مقاصد سے ہٹ کر وسیع تر سیاسی اہداف کی جانب مڑ گئی۔ خط میں کہا گیا کہ بعض رہنماؤں کے بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے حوالے سے ریاست مخالف اور علیحدگی پسند رجحانات کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
عبدالحمید لون کے مطابق حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر نے ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کے ذریعے متعدد عوامی مطالبات تسلیم کیے، تاہم ناقدین کے مطابق اس کے باوجود مزید مطالبات سامنے آتے رہے، جن میں مہاجرین کشمیر کے لیے مختص بارہ اسمبلی نشستوں کے خاتمے کی تجویز بھی شامل تھی، جسے کئی حلقوں نے بے گھر کشمیریوں کے آئینی اور تاریخی حقوق کے منافی قرار دیا۔
خط میں کہا گیا کہ بعد ازاں احتجاجی مظاہروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق ان واقعات میں تین سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ چالیس سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جس سے امن و امان اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
عبدالحمید لون نے اس امر پر بھی زور دیا کہ تحریک سے وابستہ بعض عناصر کے بیرونی روابط اور ممکنہ مالی معاونت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم ان تمام دعوؤں کی شفاف تحقیقات، قانونی جانچ اور مناسب عدالتی عمل کے ذریعے تصدیق ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا، جبکہ اس کے حامی اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے جائز عوامی اختلافِ رائے کی نمائندہ تحریک قرار دیتے ہیں۔
خط کے اختتام پر عبدالحمید لون نے برطانیہ اور دیگر ممالک کے ارکان پارلیمان، سفارتی مشنز، قونصل خانوں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق پیش کیے جانے والے تمام مؤقف اور نمائندگیوں کا متوازن، غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی جائزہ لیں تاکہ خطے میں امن، جمہوری استحکام، قانون کی بالادستی اور عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام ایک ایسے مستقبل کے مستحق ہیں جو انصاف، امن، باہمی احترام، جمہوری احتساب اور قانون کی حکمرانی پر استوار ہو۔نوٹ: چونکہ یہ خبر ایک فریق (عبدالحمید لون) کے خط اور مؤقف پر مبنی ہے، اس لیے صحافتی توازن کے لیے “ان کے مطابق”، “خط میں کہا گیا” اور “سرکاری مؤقف” جیسی نسبتیں شامل کی گئی ہیں۔