راولپنڈی میں ہونے والے قتل کی دو وارداتوں کے بعد صلح کے لئے محسود قوم کے جرگہ کی گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پنجاب ہائوس اسلام آباد میں گورنر سردار سلیم حیدر سے ملاقات

اقوام کے درمیان امن رواداری کی کوششیں

گورنر فیصل کنڈی کی پشتون جرگہ کے ہمراہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات

پشتون جرگہ کی قیادت قبائلی راہنماء عنایت محسود کررہے تھے

جرگہ نے راولپنڈی میں گزشتہ ہفتہ دو نوجوانوں کے قتل کے واقعہ پر تبادلہ خیال کیا

ملکی ترقی معاشی آسودگی کے لیئے قوموں کا باہمی پیار ضروری ہے ، فیصل کنڈی

محسود قوم پر امن معاشی حالات کی خواہاں ہے اور یہی جذبہ لیکر گورنر پنجاب کے پاس آئے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی

سانحہ پنڈی کے شہید دونوں نوجوانوں کے اہل خانہ کا غم ہم سب کا مشترکہ غم ہے گورنر کنڈی

پشتون اور پنجابی عشروں سے اکھٹے رہ رہے ہیں گورنر پنجاب

قانون کی بالادستی اور احترام انسانیت ریاست کی ترقی کے لیئے ضروری ہے سردار سلیم حیدر

پشتون جرگہ کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں سردار سلیم حیدر

قیام امن کے لیئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے جذبات و کاوشیں لائق ستائش ہیں ، گورنر پنجاب

اسلام آباد
پشتون قبائلی جرگہ کا ایک اہم وفد قبائلی رہنما عنایت اللہ محسود کی قیادت میں گورنر ہاؤس اسلام آباد پہنچا، جہاں وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جرگہ ممبران نے صوبائی مسائل کے حل کے لیے گورنر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیصل کریم کنڈی پورے صوبے کی مؤثر انداز میں ترجمانی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی تمام اقوام گورنر کے مثبت کردار اور کوششوں کی معترف ہیں، جو مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہے ہیں۔
وفد نے حالیہ دنوں راولپنڈی میں دو نوجوانوں کے قتل کے افسوسناک واقعے پر گورنر کے مؤثر اور مثبت کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات سے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہر مسئلے کا پائیدار حل قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے اور باہمی مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پشتون ملک کے مختلف حصوں میں پُرامن طریقے سے کاروبار اور زندگی گزار رہے ہیں، لہٰذا انفرادی تنازعات کو اجتماعی یا قومی رنگ دینا مناسب نہیں۔
گورنر نے کہا کہ قوموں کی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات کو دانشمندی سے حل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا، مجرموں کو سزا دینا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام نہایت ضروری ہے تاکہ معاشرے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں