عمران خان کی صحت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس، جمعرات کو اڈیالہ جیل جانے کا اعلان
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کو کسی جرم کی پاداش میں نہیں بلکہ غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بھی ناحق قید کیا گیا ہے اور انہیں صرف عمران خان کو توڑنے کے لیے جیل میں رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول عمران خان جب گرفتار ہوئے تو مکمل طور پر صحت مند تھے، جبکہ ان کی موجودہ صحت کی صورتحال کے ذمہ دار جیل انتظامیہ اور حکومت ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انصاف کے ذمہ دار ادارے بھی اگر انصاف فراہم نہ کرسکیں تو ملک کس طرف جائے گا۔ پوری قوم کو اب بھی اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی امید ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہا ہے، غصے اور مایوسی کی کیفیت میں ہے اور اسے ملک میں اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا۔ ان کے مطابق نوجوان ظلم، جبر، ناانصافی، بے روزگاری اور مہنگائی مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک ہر صوبے میں نوجوانوں کے اندر شدید غصہ دیکھ رہا ہوں اور ان کی آنکھوں میں انقلاب کا جذبہ نظر آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں اس وقت جو جذبہ، جنون اور جوش ہے وہ غیر معمولی ہے، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی قیادت بھی نوجوانوں کے اس جذبے کو سنبھال نہیں سکے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کی موجودگی میں ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کسی بہترین ہسپتال میں کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹروں کو ان سے ملاقات کی اجازت دینا کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں، حکومت ملاقات کی اجازت دے کر قوم کی تشویش ختم کرے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اگر حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو تمام پارلیمنٹیرینز سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ ان کے مطابق جمعرات کو پارلیمنٹیرینز اڈیالہ جیل جائیں گے اور اگر اس روز بھی ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو اسی رات پورے پاکستان میں ہر چوک کو ڈی چوک بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر فیصلہ جاری کیا جائے اور ان کے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ اپنی جگہ موجود ہے اور 27 ستمبر سے پہلے بھی جدوجہد جاری رہے گی۔ 27 ستمبر کو پورے پاکستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ماضی میں بھی سہیل آفریدی عمران خان کی صحت، طبی سہولیات اور اہل خانہ و ذاتی معالجین تک رسائی کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔
نوٹ: عمران خان کی قید، صحت کی ذمہ داری اور دیگر سیاسی الزامات سے متعلق اوپر بیان کردہ نکات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دعوے اور مؤقف ہیں۔