اٹک: دو بیویوں کے قتل کے مقدمات میں گرفتار شخص نے مبینہ طور پر تین سالہ بیٹے کو قتل کرکے قبرستان میں دفن کردیا
اٹک — تھانہ حضرو کے علاقے غورغشتی میں تین سالہ بچے کی قبرستان سے ملنے والی لاش کا معمہ حل ہوگیا، پولیس کے مطابق بچے کا سگا باپ مبینہ طور پر قتل میں ملوث نکلا، جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول بچے کی شناخت 3 سالہ عمر شاہ ولد سجاد احمد شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ بچے کی لاش گزشتہ روز غورغشتی کے قبرستان سے ملحقہ ایک گڑھے سے برآمد ہوئی تھی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
مقدمہ تھانہ حضرو کی پولیس چوکی غورغشتی کے انچارج سب انسپکٹر سجاد احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں دفعات 302 اور 201 تعزیراتِ پاکستان شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو 9 اگست کی صبح اطلاع ملی کہ محلہ شیخ بانڈہ غورغشتی کے قبرستان سے ملحقہ گڑھے میں ایک کمسن بچے کی لاش دبی ہوئی ہے۔ پولیس موقع پر پہنچی تو مقامی افراد بھی جمع ہوگئے، جہاں لیاقت شاہ نے لاش کی شناخت عمر شاہ کے طور پر کی۔
ایف آئی آر میں مزید درج ہے کہ مقتول بچے کے والد سجاد احمد شاہ کے خلاف اس سے قبل اپنی اہلیہ فاطمہ بی بی کے قتل کا مقدمہ بھی تھانہ حضرو میں 2 اکتوبر 2023ء کو دفعہ 302 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق سجاد احمد شاہ حال ہی میں جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تھا اور بچے کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ پولیس نے شبہ کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائیں تو مبینہ طور پر بچے کے قتل میں والد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
واقعے کے بعد ڈی پی او اٹک نے نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سجاد احمد شاہ کو حراست میں لے لیا۔
پی ایف ایس اے راولپنڈی ریجن کی ٹیم اور کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں، جبکہ مقتول بچے کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال حضرو منتقل کی گئی، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اسے سپرد خاک کردیا گیا۔
واقعے کی مزید تفتیش انچارج ایچ آئی یو حضرو سرکل انسپکٹر انجم سہیل کر رہے ہیں۔
تین سالہ بچے کے مبینہ طور پر اپنے ہی والد کے ہاتھوں قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد علاقے میں شدید تشویش اور غم کی لہر پائی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
نوٹ: خبر میں ملزم کے خلاف الزامات کو پولیس/ایف آئی آر کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ جرم ثابت ہونا عدالت کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے۔

