وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، عمران خان کی صحت پر تشویش، اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، اس لیے ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی دی جائے جبکہ جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، اس لیے صوبوں کی تشکیل جیسے حساس اور قومی اہمیت کے حامل معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔
شرکاء نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔
ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے، موجودہ صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار کی بحالی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
شرکاء نے واضح کیا کہ جو سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ان کے ساتھ چلنا چاہتی ہے، اس کے لیے دروازے کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔
ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل سمیت موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے۔
ملاقات میں مائنز، منرلز اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق ان علاقوں کے مقامی لوگوں کا ہے، تاہم بدقسمتی سے مقامی آبادی کو اپنے ہی وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد، ہلاکتوں، راستوں اور انٹرنیٹ کی بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے تین مراحل میں کرائے گئے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر موجودہ صورتحال کا سیاسی حل تلاش کریں، مظاہرین سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں اور شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے محمود خان اچکزئی کو اعتماد میں لیا گیا جبکہ لانگ مارچ کی تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کو مکمل تیاری، بھرپور سیاسی قوت، عوامی شمولیت اور منظم انداز میں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و جمہوری قوتوں سے رابطوں اور مشاورت کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔