جماعت اسلامی کا شبر زیدی کو ایک ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس، الزامات کے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
کراچی: 10 اگست 2026ء
جماعت اسلامی پاکستان نے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کی جانب سے جماعت اسلامی پر اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ طور پر رقم لے کر عوامی احتجاج اور مسائل کو دبانے کے الزامات کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس جاری کردیا۔
جماعت اسلامی کے شعبہ اطلاعات کے مطابق قانونی نوٹس طاہر لا ایسوسی ایٹس کے ایڈووکیٹ طاہر اقبال ملک نے جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکرٹری توفیق الدین صدیقی کی ہدایات پر جاری کیا۔ نوٹس میں شبر زیدی کو الزامات واپس لینے، تحریری معافی مانگنے اور اپنے دعووں کے حق میں شواہد پیش کرنے کے لیے سات روز کی مہلت دی گئی ہے۔
27 جولائی 2026ء کو جاری کیے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی ایک ملک گیر سیاسی جماعت ہے جس کا پاکستان کے سیاسی، جمہوری، آئینی، انتخابی اور سماجی معاملات میں طویل کردار ہے اور جماعت کی اپنے کارکنوں، ارکان، حامیوں اور عوام میں ایک نمایاں ساکھ موجود ہے۔
نوٹس کے مطابق شبر زیدی نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران اور بعد ازاں یوٹیوب، فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے بیانات میں جماعت اسلامی پر سنگین الزامات عائد کیے۔ جماعت اسلامی کے مطابق شبر زیدی نے اسے عوامی مسائل اور احتجاج کو مبینہ طور پر ’’ڈائیلیوٹ‘‘ کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کی ’’فائر وال‘‘ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی احتجاج کو محدود کرنے کے لیے لوگوں کو لاتی اور اس مقصد کے لیے مبینہ طور پر رقم وصول کرتی ہے۔
قانونی نوٹس میں ٹی وی پروگرام کے دوران میزبان کی جانب سے کیے گئے سوال ’’کیا پیسے لیتی ہے جماعت اسلامی؟‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شبر زیدی نے مبینہ طور پر ’’سو فیصد، سو فیصد‘‘ جواب دیا، جس سے جماعت اسلامی کے مطابق یہ تاثر پیدا ہوا کہ الزام کو محض سیاسی رائے کے بجائے ایک یقینی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے وکیل کے مطابق ان بیانات سے جماعت اسلامی پر خفیہ فنڈنگ، رشوت، بدعنوانی، سیاسی دھوکا دہی، عوامی مفادات سے غداری اور ریاستی عناصر سے مبینہ ملی بھگت جیسے سنگین الزامات عائد ہوتے ہیں۔
قانونی نوٹس میں شبر زیدی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دعووں کے حق میں مکمل شواہد فراہم کریں، جن میں مبینہ ادائیگی کرنے والے شخص کی شناخت، رقم وصول کرنے والے فرد کا نام، رقم، تاریخ، مقام، ادائیگی کا طریقہ، بینک ریکارڈ یا مالیاتی دستاویزات، گواہان اور دیگر متعلقہ ریکارڈ شامل ہیں۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے علم کے مطابق شبر زیدی نے تاحال اپنے الزامات کے حق میں کوئی بینک ریکارڈ، رسید، معاہدہ، عطیہ دہندہ یا ادائیگی کرنے والے شخص کی تفصیلات، گواہ، تحقیقاتی رپورٹ، عدالتی فیصلہ یا آڈٹ رپورٹ پیش نہیں کی۔
جماعت اسلامی کے مطابق شبر زیدی کا سابق چیئرمین ایف بی آر ہونا بھی معاملے کو مزید حساس بناتا ہے، کیونکہ ان کے سابق سرکاری عہدے کے باعث عوام ان کے مالی معاملات سے متعلق دعووں کو مستند معلومات پر مبنی سمجھ سکتے ہیں۔
قانونی نوٹس میں شبر زیدی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر جماعت اسلامی کے خلاف تمام الزامات واپس لیں، آئندہ ایسے بیانات دینے سے باز رہیں اور جماعت اسلامی پاکستان سے بلا مشروط تحریری معافی مانگیں۔
جماعت اسلامی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ شبر زیدی اسی ٹی وی چینل، پروگرام، یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو کے ذریعے معذرت اور تردید نشر کریں جہاں سے مبینہ الزام سامنے آیا، جبکہ متعلقہ ویڈیو کلپس، شارٹس، ریلز، کیپشنز اور تھمب نیلز ہٹانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
قانونی نوٹس میں جماعت اسلامی کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مبینہ نقصان پہنچانے پر ایک ارب روپے، یعنی 100 کروڑ روپے، ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم نوٹس کے مطابق اس رقم کا حتمی تعین مجاز عدالت کرے گی۔
جماعت اسلامی نے شبر زیدی سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ الزامات سے متعلق تمام مواد، بشمول ای میلز، خط و کتابت، واٹس ایپ پیغامات، کال ریکارڈز، تحقیقی نوٹس، آڈیو وڈیو ریکارڈنگز، خام فوٹیج اور سوشل میڈیا ڈیٹا محفوظ رکھیں۔
قانونی نوٹس کے مطابق سات روز کے اندر مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں شبر زیدی کے خلاف مجاز فورمز پر سول، فوجداری، ریگولیٹری اور دیگر دستیاب قانونی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے، جس میں ہرجانے، حکم امتناعی، مواد ہٹانے، تردید اور عدالتی اخراجات سمیت دیگر قانونی ریلیف طلب کیا جائے گا۔
قانونی نوٹس کی نقول متعلقہ ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر یا مالک، پروگرام کے اینکر و میزبان، پروڈیوسر و ڈائریکٹر، متعلقہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے منتظمین اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل یا مجاز نمائندے کو بھی برائے اطلاع و ضروری کارروائی ارسال کی گئی ہیں۔
شکیل احمد ترابی
سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان