خیبرپختونخوا اسمبلی: این ایف سی کی سالانہ رپورٹس پیش نہ ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج، سوالات کے بروقت جواب نہ ملنے پر اسپیکر برہم
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی احمد کنڈی نے این ایف سی کی سالانہ رپورٹس ایوان میں پیش نہ کیے جانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کرلی، جبکہ اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے محکمہ جات کی جانب سے ارکان کے سوالات کے بروقت جوابات نہ دینے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
وقفہ سوالات کے دوران احمد کنڈی نے کہا کہ ان کا سوال نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کی سالانہ رپورٹس کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا این ایف سی کی سالانہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جاتی ہے یا نہیں، کیونکہ رپورٹ میں تمام حساب کتاب اور ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔
احمد کنڈی کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت وفاقی اور صوبائی وزرائے خزانہ سالانہ رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کے پابند ہیں۔ سال 2026 چل رہا ہے، اس لیے 2025 کی رپورٹ اب تک ایوان میں پیش ہوجانی چاہیے تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وزیر خزانہ ہی موجود نہیں تو رپورٹ کون پیش کرے گا۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ این ایف سی میں کوئی ترمیم تمام متعلقہ فریقوں کی رضامندی کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 2015 میں این ایف سی میں ایک ترمیم کی گئی جو غیر قانونی تھی، اس معاملے کو بھی تفصیل سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
احمد کنڈی نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس پر تفصیلی بحث ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بقایاجات ادا نہیں کیے جارہے اور صوبے کے وسائل وفاق لے رہا ہے، جس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔
صوبائی وزیر محنت فیصل خان ترکئی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جو این ایف سی رپورٹس صوبائی حکومت کو موصول ہوتی ہیں، انہیں صوبائی حکومت کے ذریعے اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 اور 2022 کی رپورٹس ایوان میں پیش کی جاچکی ہیں، جبکہ 2025 اور 2026 کی رپورٹس کے حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کی گئی ہے اور وہ رپورٹس پیش کرے گی۔
فیصل خان ترکئی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنا کام کردیا ہے، اب وفاقی حکومت کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے معاملہ کمیٹی کو بھی بھجوانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی جواب دیا جاچکا ہے، تاہم اگر رکن اس جواب سے مطمئن نہیں تو معاملے کو مزید دیکھا جاسکتا ہے۔
اجلاس میں رکن اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے بھی سوالات کے جوابات میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے کئی مرتبہ رولنگ دی جاچکی ہے کہ جن سوالات کے جوابات نہیں آتے انہیں کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ کی جانب سے جواب نہیں آتا، معاملہ مؤخر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کے سوالات کے جوابات دینا محکمہ جات کی ذمہ داری ہے۔
اسپیکر نے محکمہ جات کی جانب سے سوالات کے جوابات میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ چھ ماہ گزر جاتے ہیں لیکن سوالات کے جواب نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ محکمے اتنے نااہل ہیں کہ ایک سوال کا جواب بھی بروقت نہیں دے سکتے۔
بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اسمبلی کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں آئے، صرف بریفنگ بھیجی گئی ہے، جبکہ اسمبلی کے قواعد کے مطابق سوال کا جواب آٹھ دن کے اندر آنا چاہیے۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ سوال کا جواب دینا رکن اسمبلی کا حق ہے اور محکمہ کی غفلت کی سزا رکن اسمبلی کو نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے سوالات کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز بھی دی۔
اجلاس کے دوران اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ایجنڈا بھی معطل کردیا۔