عمران خان کی صحت، 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور محسن نقوی سے رابطے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مؤقف

عمران خان کی صحت، 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور محسن نقوی سے رابطے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا مؤقف

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے معلومات کے لیے ان کے پاس دو ذرائع ہیں، ایک عمران خان کی فیملی اور دوسرا بشریٰ بی بی کی فیملی، جبکہ 27 ستمبر کو مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے تمام معاملات طے شدہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ شام وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ گفتگو کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق دریافت کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں شخصیات مکمل طور پر صحت مند ہیں اور طبی ماہرین کی نگرانی میں ان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ غیرمصدقہ اطلاعات کے بجائے حکام پر اعتماد کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات کے معاملے پر وزیر داخلہ نے فی الحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں بتائی۔

دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وفاقی وزیر داخلہ سے رابطہ موجود ہے تاہم یہ رابطے سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ سیکیورٹی معاملات سے متعلق ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے پاس معلومات کے دو ذرائع ہیں، عمران خان کی فیملی اور بشریٰ بی بی کی فیملی۔ انہوں نے کہا کہ اگر علیمہ خان کی جانب سے صحت سے متعلق کوئی بیان سامنے آیا ہے تو اس حوالے سے بھی بات ہونی چاہیے۔

لانگ مارچ کی تاریخ اور قیادت سے متعلق سوالات

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے پر مشاورت کی گئی ہے اور لائحۂ عمل طے شدہ ہے۔ ان کے مطابق تحریک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے کارکنوں اور عوام کو متحرک کیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ میں 20 لاکھ افراد کی شرکت کا ہدف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں گرفتار یا لاپتا کیا جاتا ہے تو قیادت کی منتقلی کا طریقہ کار بھی طے کرلیا گیا ہے اور جھنڈا ایک قیادت سے دوسری قیادت کو منتقل ہوتا رہے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک سے اختلاف رکھنے والے افراد سے بھی رابطہ کیا جائے گا، سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لیا جائے گا اور باہمی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو متحرک کیا جائے گا تاکہ 27 ستمبر کو عوام کو سڑکوں پر لایا جا سکے۔

دھمکی سے متعلق سوال

صحافی زیشان عزیز نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ انہیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پانچ دن میں عہدے سے فارغ کردیا جائے گا، دھمکی کس کی جانب سے دی گئی؟

سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ انہیں سیکٹر کمانڈر کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔

عمران خان کی فیملی سے ملاقات اور لانگ مارچ کا فیصلہ

صحافیوں نے سوال کیا کہ اگر لانگ مارچ سے قبل عمران خان سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات ہوجاتی ہے تو کیا مارچ ہوگا؟

وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ جو بھی عمران خان سے ملاقات کرے گا، وہی ان کا پیغام کارکنوں تک پہنچائے گا کہ مارچ کرنا ہے یا نہیں۔

اس سوال پر کہ اگر لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد عمران خان سے ملاقات ہوجائے تو کیا مارچ ختم کردیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کا پیغام ہی فیصلہ کن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نہ ملاقات ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی یقین دہانی سامنے آتی ہے تو کارکن اپنا لائحۂ عمل جاری رکھیں گے، کیونکہ لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ بھی عمران خان ہی کریں گے۔

عمران خان کی صحت خراب ہوئی تو ہنگامی کال

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملتی ہے تو 27 ستمبر سے پہلے ہی کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی ہنگامی کال دی جائے گی۔ ان کے بقول ایسی ہنگامی کال کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

دوسری جانب سینئر صحافی حبیب اکرم کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے بعد بعض سیاسی شکوک و شبہات دور ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ 27 ستمبر کی تاریخ کے اعلان کو بھی مشاورت سے کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

تاہم سہیل آفریدی کی جانب سے محسن نقوی سے سیکیورٹی معاملات پر رابطے کی تصدیق کے بعد سیاسی حلقوں میں اس رابطے کو بھی اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں