غیر قانونی افغان مہاجرین کو ہر صورت پاکستان سے بے دخل کیا جائے گا، دہشت گردی میں ملوث افغان باشندوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالیں گے، گورنر فیصل کریم کنڈی



پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ بغیر ویزا اور قانونی اجازت کے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو ہر صورت ملک بدر کیا جائے گا۔ تمام افغان مہاجرین دہشت گرد نہیں، تاہم دہشت گردی کے ہر واقعے میں افغان مہاجرین کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ دہشت گردی کی فنڈنگ میں ملوث بااثر افغان باشندوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملک سے نکالا جائے گا۔ غیر قانونی افغان مہاجرین کی بے دخلی پر اعتراض کرنے والے ممالک اگر ویزے کے بغیر پاکستانی شہریوں کو اپنے ہاں قیام کی اجازت دیں تو پاکستان ان کے اعتراضات پر غور کر سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں گورنر ہاؤس میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے وفد سے ملاقات اور خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت کاظم خان کر رہے تھے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صحافت اور ریاست کا آپس میں گہرا تعلق ہے، ریاست اور معاشرے کی تعمیر میں میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ نے صحافت کے شعبے کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے صحافیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ صحافیوں کو درپیش مالی مشکلات، دیگر مسائل اور ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سی پی این ای کے اراکین کو پشاور آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای نے ہمیشہ ملک کی ترقی اور مثبت صحافتی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صحافیوں کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی سمیت متعدد سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری پہلی ترجیح ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ امن و امان کے بعد ترقیاتی منصوبوں پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ گزشتہ دور حکومت میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس انتہائی کم منعقد کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے جنازوں میں بھی صوبائی حکومت کے وزراء شرکت کے لیے نہیں پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبرپختونخوا کو فنڈز فراہم کیے ہیں۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ انتہائی مجبوری کے تحت کیا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا مقصد خیبرپختونخوا کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ صوبہ بنانا ہے اور دہشت گردوں کا جلد خاتمہ کرکے صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا ایک پیج پر ہیں اور صوبے کے حقوق کے حصول اور ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مشکور ہیں جنہوں نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی۔ صوبے کی پالیسیاں وفاق کے ساتھ مل کر بنانا ہوں گی، یہ پالیسیاں کابل سے نہیں آتیں۔ صوبے کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو درکار سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ اہلکاروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں دیگر صوبوں کی پولیس کے برابر لایا جا سکے۔ پولیس شہداء کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے صوبے میں کیڈٹ کالج قائم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے صوبے میں جنگلات کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگلات کے فروغ کے بجائے درختوں کی کٹائی زیادہ ہوئی ہے، جس کا موسمیاتی تبدیلی سے گہرا تعلق ہے۔ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ معدنیات کے ٹھیکے ترجیحی بنیادوں پر مقامی کمپنیوں کو دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کو بھی صوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں۔ کوہاٹ کے علاقے شکردرہ میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کی اطلاعات ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور میں بین الاقوامی معیار کا اسٹیڈیم اور ہسپتال قائم کرنے میں ماضی میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ ارباب نیاز اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کا کام 2022 میں شروع ہوا تھا جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اب ایک جدید بین الاقوامی اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے جہاں عالمی سطح کے کھلاڑی کھیل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، جبکہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی اب تک مؤثر قانون سازی نہیں ہو سکی۔ ناردرن بائی پاس اور رنگ روڈ کے منصوبوں پر کام تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔ صوبے کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کا احترام کرتے ہیں۔ مثبت تنقید ہر کسی کا جمہوری حق ہے، تاہم جمہوریت میں سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کی حد تک نہیں لے جانا چاہیے۔