بلوچستان میں سکیورٹی خدشات: کمشنر رخشان ڈویژن اسداللہ کاکڑ ڈرائیور سمیت اغوا، ایک ماہ میں اسی علاقے سے دوسرے اعلیٰ سرکاری افسر کو اٹھا لیا گیا

### بلوچستان میں سکیورٹی خدشات: کمشنر رخشان ڈویژن اسداللہ کاکڑ ڈرائیور سمیت اغوا، ایک ماہ میں اسی علاقے سے دوسرے اعلیٰ سرکاری افسر کو اٹھا لیا گیا

خاران: بلوچستان کے ضلع خاران کے قریب نوشکی، خاران شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے کمشنر رخشان ڈویژن اسداللہ کاکڑ کو ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کر لیا۔ واقعہ برشونکی کے مقام پر پیش آیا، جہاں سے تقریباً 25 روز قبل ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کو بھی ان کے ساتھیوں سمیت اغوا کیا گیا تھا۔

خاران کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار اور پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال واقعے کی باضابطہ تصدیق یا کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔

### کمشنر کو کیسے اغوا کیا گیا؟

پولیس افسر کے مطابق کمشنر رخشان ڈویژن اسداللہ کاکڑ جمعرات کو اپنے ڈرائیور اور کیشیئر حاجی قاسم کے ہمراہ ذاتی گاڑی میں کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے۔ وہ سفر کے دوران کسی سکیورٹی اسکواڈ کے بغیر تھے۔

خاران سے تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر پہلے، پولیس تھانہ پتکن کی حدود میں برشونکی کے مقام پر مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ان کی گاڑی روک لی۔

پولیس افسر کے مطابق مسلح افراد نے تینوں افراد کو یرغمال بنا لیا، تاہم بعدازاں کیشیئر حاجی قاسم کو رہا کر دیا گیا، جبکہ کمشنر اسداللہ کاکڑ اور ان کے ڈرائیور کو گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کاروں کے دونوں افراد کو قریبی پہاڑی علاقے کی جانب لے جانے کی اطلاعات ہیں۔

رہائی کے بعد حاجی قاسم نے پولیس اور متعلقہ حکام کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد کمشنر اور ان کے ڈرائیور کی بازیابی کے لیے کوششوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاحال کسی مسلح تنظیم نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

### سکیورٹی اسکواڈ کے بغیر سفر کیوں کر رہے تھے؟

خاران انتظامیہ کے ایک عہدے دار کے مطابق علاقے میں امن و امان کی خراب صورت حال اور سکیورٹی خدشات کے باعث کمشنر پولیس اہلکاروں یا سکیورٹی اسکواڈ کے بغیر سفر کر رہے تھے۔ وہ سرکاری گاڑی کے بجائے اپنی ذاتی گاڑی استعمال کر رہے تھے تاکہ ان کی شناخت اور نقل و حرکت نمایاں نہ ہو۔

عہدے دار کے مطابق اسداللہ کاکڑ دورانِ سفر ایک سرکاری افسر سے رابطے میں تھے، تاہم نوشکی سے خاران کی جانب روانہ ہونے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ واقعہ اس امر کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ حساس علاقوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے درپیش مشکلات اور شاہراہوں پر مسلح افراد کی سرگرمیوں کے حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ تاہم، واقعے کی مکمل تفصیلات اور اغوا کاروں کے طریقۂ کار کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔

### ایک ماہ کے دوران اسی مقام سے دوسرے افسر کا اغوا

کمشنر رخشان ڈویژن کا اغوا اس لیے بھی تشویش کا باعث ہے کہ اس سے تقریباً 25 روز قبل، 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو اور ان کے تین ساتھیوں کو بھی اسی علاقے سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا۔

دستیاب معلومات کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھیوں کو تقریباً 12 روز بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے قبائلی سطح پر بھی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم رہائی کے طریقۂ کار کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس واقعے کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات میں تاوان طلب کیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا تھا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

ایک ہی شاہراہ اور قریباً ایک ہی مقام سے مختصر عرصے میں دو اعلیٰ سرکاری افسران کا اغوا بلوچستان میں شاہراہوں کی سکیورٹی اور سرکاری اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

### برشونکی اور پتکن کا جغرافیائی پس منظر

برشونکی اور پتکن، نوشکی اور خاران کے درمیان واقع علاقے ہیں، جو پارود اور لجے کے پہاڑی سلسلوں کے قریب ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس سے قبل اغوا کیے گئے ڈپٹی کمشنر خاران کو بھی اسی پہاڑی خطے کی جانب لے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

موجودہ واقعے میں بھی کمشنر اور ان کے ڈرائیور کو پہاڑی علاقے کی جانب لے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ان کے موجودہ مقام کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ماضی میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران شورپارود کے پہاڑی علاقے میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ انہوں نے ایسے علاقوں میں کارروائیوں کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

### اسداللہ کاکڑ کون ہیں؟

اسداللہ کاکڑ بلوچستان سول سروسز گروپ کے گریڈ 19 کے افسر ہیں۔ انہیں رواں سال اگست میں کمشنر رخشان ڈویژن مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ ڈپٹی کمشنر خاران کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

رخشان ڈویژن بلوچستان کے وسیع رقبے پر مشتمل انتظامی ڈویژنوں میں شامل ہے، جس میں نوشکی، چاغی، خاران اور واشک کے اضلاع شامل ہیں۔

خاران کوئٹہ سے جنوب مغرب کی جانب تقریباً 280 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں نوشکی، چاغی، واشک اور قلات سمیت مختلف اضلاع سے ملتی ہیں۔ یہ ضلع طویل عرصے سے بدامنی اور مسلح کارروائیوں کے باعث سکیورٹی حکام کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

### بلوچستان میں سول افسران کو نشانہ بنانے کے سابقہ واقعات

بلوچستان میں ماضی کے دوران سول انتظامیہ کے متعدد افسران کو اغوا اور حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

* اگست 2024: ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر حسین بلوچ کو مستونگ کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

* مئی 2025: ضلع سوراب میں ایک حملے کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہوئے تھے۔

* جون 2025: اسسٹنٹ کمشنر کیچ محمد حنیف نورزئی کو اغوا کیا گیا، جنہیں تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد رہا کیا گیا۔

* اگست 2025: اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے بیٹے کی بعدازاں بازیابی ہوئی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کے قتل کی اطلاعات سامنے آئیں اور ان کی لاش نہ ملنے کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوئیں۔

* جنوری 2026: نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون کو مربوط حملوں کے دوران اغوا کیا گیا، تاہم بعدازاں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں سول انتظامیہ کے افسران اور سرکاری تنصیبات بھی مسلح کارروائیوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔

### سکیورٹی اداروں کے لیے نئے سوالات

کمشنر رخشان ڈویژن کا ذاتی گاڑی میں، سکیورٹی اسکواڈ کے بغیر سفر کے دوران اغوا ہونا اس حوالے سے تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے کہ مسلح افراد کو ان کی گاڑی روکنے اور انہیں اپنے ساتھ لے جانے کا موقع کیسے ملا۔

واقعے کے مختلف پہلوؤں میں شاہراہ پر ناکہ بندی، مسلح افراد کی نقل و حرکت، ممکنہ پیشگی معلومات، سرکاری افسران کے سفری تحفظ اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں نگرانی کی صلاحیت شامل ہیں۔ تاہم، ان پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات اور مصدقہ شواہد کی بنیاد پر ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان کے رخشان، مکران، قلات اور لسبیلہ ڈویژنوں کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفر کو خطرناک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ واقعے نے ایک بار پھر اس ضرورت کو نمایاں کیا ہے کہ حساس شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات، سرکاری افسران کی محفوظ نقل و حرکت اور اغوا کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

تاحال سب سے اہم سوال کمشنر اسداللہ کاکڑ اور ان کے ڈرائیور کی بحفاظت بازیابی کا ہے۔ واقعے کی باضابطہ حکومتی تفصیلات، اغوا کاروں کی شناخت اور بازیابی کے لیے جاری اقدامات کے بارے میں مزید مصدقہ معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں