وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سہیل آفریدی کو دہشت گردوں اور اسمگلروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسا کوئی ثبوت ہے تو ذاکر اللہ کا شفاف اور فری ٹرائل کیا جائے۔

پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے نمائندے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کو دہشت گردوں اور اسمگلروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت ہے تو ذاکر اللہ کا شفاف اور فری ٹرائل کیا جائے۔

پشاور میں مشیر زراعت میاں عمر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اختیار ولی نے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور ایک پاکستانی شہری کو ٹی ٹی پی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پریس کانفرنس میں دکھایا گیا شخص ذاکر اللہ ہے، جو ضلع خیبر کا رہائشی اور پی ٹی آئی کا کارکن ہے۔

شفیع جان کے مطابق ذاکر اللہ نے بتایا کہ وہ پہلے درزی کا کام کرتا تھا اور اب موٹر سائیکل چلاتا ہے۔ ذاکر اللہ نے کہا کہ اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار اختیار ولی ہوں گے اور وہ اپنے آفریدی قبائل کے جرگے کے سامنے بھی اختیار ولی کے الزامات رکھے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ذاکر اللہ کہیں قصوروار ثابت ہوتا ہے تو اسے قانون کے حوالے کرنے کے لیے وہ خود تیار ہیں، تاہم کسی شہری کو بغیر ثبوت دہشت گرد قرار دینا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاکر اللہ کو کوئی نقصان پہنچا تو وفاقی حکومت اور اختیار ولی ذمہ دار ہوں گے۔

شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ وفاقی وزراء کے پاس ایک ہی سکرپٹ ہے جو دہشت گردی سے شروع ہو کر گورنر راج پر ختم ہوتا ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت بار بار خیبرپختونخوا اور پختونوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ایسے بیانات سے کسی بڑے سانحے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کے ایمان کا حصہ ہے اور وہ اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی نو گو ایریا نہیں، نواز شریف ناران کاغان تک آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حیات آباد انڈر پاس کی افتتاحی تقریب میں عوام کے جوش و خروش کے بعد وفاقی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔

لانگ مارچ کے حوالے سے شفیع جان نے بتایا کہ 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پرامن لانگ مارچ لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ قافلہ لکی مروت سے کرک اور کوہاٹ کے راستے پشاور اور پھر صوابی پہنچے گا، جہاں ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے قافلے بھی مارچ میں شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کی حتمی منزل اسلام آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ کے مطالبات میں بانی چیئرمین سے ملاقات اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا شامل ہے۔ اسلام آباد میں حکومت سے مذاکرات جاری ہیں اور مذاکرات کا نتیجہ رات تک واضح ہو جائے گا۔ پارٹی قیادت کو مذاکرات کے حوالے سے مکمل اختیار حاصل ہے اور ان کی طرف سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جائے گا۔

شفیع جان نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور امید ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق تمام مطالبات قانونی ہیں اور پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو بات چیت پر یقین رکھتی ہے۔

صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں نہ دی جائیں، اگر گورنر راج لگانا ہے تو لگا دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں