کور کمانڈرز کانفرنس: دہشت گردی، داخلی استحکام اور قومی سلامتی پر اہم فیصلے
راولپنڈی، 2 اکتوبر 2026 — فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیرِ صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی داخلی و بیرونی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور دفاعی امور کا جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق ہیں۔ کانفرنس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی قیادت کی جانب سے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے سنگین نتائج کی ذمہ داری بھی اسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ مؤثر انتظامی اور گورننس اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب لایا جائے، دہشت گردی کی وجوہات اور عوامل کے حوالے سے عوام سے مؤثر رابطہ کاری اور بیانیے پر کام کیا جائے، جبکہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ پولیس کی استعدادِ کار بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
کانفرنس نے قرار دیا کہ پاکستان کے لیے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے اور کسی بھی جواز کے تحت پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق بلاامتیاز نمٹا جائے گا۔
فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ میں اہم قرار دیا۔ شرکاء نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور حرمین شریفین کے تحفظ و تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے فارمیشنز کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول، تربیت اور تمام جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنے پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔