یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، و دیگر کے اغواء پر شدید تشویش کا اظہار

*گوادر (بیورو رپورٹ):* گوادر پریس کلب میں گوادر سے تعلق رکھنے والی مختلف سماجی، تعلیمی، وکلاء، ڈاکٹرز، تجارتی اور قبائلی شخصیات نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد بلوچ، ڈاکٹر محمد ارشاد اور حاتم علی بلوچ کے اغواء پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد 13 مئی کو سرکاری امور کے سلسلے میں گوادر سے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے، تاہم مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے ان کے لاپتہ ہونے کی خبر نے نہ صرف گوادر بلکہ پورے بلوچستان اور ملک بھر میں بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ معاشرتی مسائل اور عوامی احساسات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور آج کی یہ پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی سول سوسائٹی، انجمن تاجران، اساتذہ، دانشور، قبائلی معتبرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شدید فکر مندی کے عالم میں جمع ہوئے ہیں تاکہ ایک اجتماعی، انسانی اور مذہبی اپیل دنیا کے سامنے رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے جبکہ اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیمی منتظمین نئی نسل کی فکری تربیت، شعور اور مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف گوادر جیسے ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہیں جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات بہتر مستقبل کے خواب لے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کے ساتھیوں کا تعلق مقدس شعبہ تعلیم سے ہے۔ وہ ہتھیار یا طاقت کے نہیں بلکہ علم، تحقیق، مکالمے اور نوجوانوں کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کی خدمات کا مقصد صرف تعلیم کی بہتری اور نوجوان نسل کی رہنمائی ہے۔ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ جن افراد کے پاس یہ شخصیات موجود ہیں وہ انسانی ہمدردی، بلوچستان کی تعلیمی بہتری اور نوجوان نسل کے مستقبل کے پیش نظر انہیں فوری اور بحفاظت رہا کریں۔ مقررین نے کہا کہ یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ، ان کے خاندانوں اور پورے تعلیمی نظام کی تشویش کا معاملہ بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی یا تصادمی انداز میں نہیں بلکہ خالصتاً انسانی، سماجی اور تعلیمی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ مقررین نے حکومت بلوچستان، متعلقہ اداروں اور تمام بااثر شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لاپتہ افراد کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ اہل خانہ، شاگردوں اور ساتھیوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں