وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹر ایف 6/1 سے تین دوستوں کی مدد سے نوجوان فرخ جاوید کو اغوا کروانے کے بعد موٹر وے پر قتل کروانے والی مرکزی ملزمہ مہ نور شاہ تھانوں میں “مبینہ طور پر جعلی مقدمات” درج کروانے میں بھی ملوث نکلی ہے۔

*اسلام آباد پولیس رینکس میں زلزلہ؛ تھرتھلی مچ گئی*

*اسلام آباد (کامران کھوکھر )

وفاقی دارالحکومت کے پوش سیکٹر ایف 6/1 سے تین دوستوں کی مدد سے نوجوان فرخ جاوید کو اغوا کروانے کے بعد موٹر وے پر قتل کروانے والی مرکزی ملزمہ مہ نور شاہ تھانوں میں “مبینہ طور پر جعلی مقدمات” درج کروانے میں بھی ملوث نکلی ہے۔

فرخ جاوید قتل کیس میں گرفتار ملزمہ مہ نور شاہ سے برآمد شدہ موبائل فون نے خوفناک راز اگلنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے اسلام آباد پولیس کے متعدد ایس ایچ اوز اور دیگر افسران و ملازمین کے نمبرز، روابط اور پیار بھری واٹس ایپ چیٹس برآمد ہوئی ہیں۔

انکشافات کے بعد اسلام آباد پولیس رینکس میں زلزلہ آ گیا ہے اور تھرتھلی مچ گئی ہے۔ اعلیٰ افسران نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

دوسری جانب کرائم رپورٹر علی عمران عباسی نے ملزمہ مہ نور شاہ کی مبینہ مہ نوشی اور ڈانس پارٹیز کی ویڈیوز لیک کر دی ہیں۔ لیک ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمہ کس طرح مہ نوشی کر رہی ہے اور پارٹیز اٹینڈ کر رہی ہے۔

ایک ویڈیو میں ملزمہ فون کال پر گالیاں دیتے اور دھمکیاں دیتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس سارے معاملے پر اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام نے تاحال باضابطہ موقف دینے سے گریز کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے روابط میں آنے والے تمام پولیس افسران سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں