ممتاز شاعر بشیر بدر کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر میں اردو ادب سے وابستہ حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ بھوپال میں آخری سانس لی

اردو کے ممتاز اور شہرۂ آفاق شاعر بشیر بدر کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر میں اردو ادب سے وابستہ حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بشیر بدر طویل عرصے سے علیل تھے اور انہوں نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں آخری سانس لی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

معروف بھارتی صحافی معصوم مرادآبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے اردو دنیا کو اس افسوسناک خبر سے آگاہ کیا۔ تاہم تادمِ تحریر بھارتی قومی میڈیا کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

بشیر بدر اردو غزل کے ان معدودے چند شعرا میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے جدید اردو شاعری کو نئی جہت عطا کی۔ ان کی شاعری محبت، جدائی، انسانی رشتوں اور سماجی احساسات کی ترجمان تھی۔ ان کے بے شمار اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور برصغیر سمیت دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرتے رہے۔

ان کے مشہور اشعار میں:

“کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا
جو گلے ملو گے تپاک سے”

اور

“اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے”

خاص طور پر عوام و خواص میں بے حد مقبول رہے۔

بشیر بدر نے اردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور کئی ادبی اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ ان کی شاعری کی کتابیں نہ صرف ہندوستان اور پاکستان بلکہ دنیا بھر کی جامعات اور ادبی حلقوں میں پڑھی جاتی رہیں۔

ان کے انتقال کو اردو ادب کا ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مداح ان کے اشعار اور یادیں شیئر کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین و چاہنے والوں کو صبر جمیل دے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں