وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی چینی سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت، تجارت و تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چین کے شہر ووہان میں ہوبئی کے محکمہ تجارت اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی سی پی آئی ٹی) کے حکام سے ملاقات کی، جس میں سندھ اور ہوبئی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چینی کمپنیوں کو سندھ میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور زراعت، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ملاقات کے دوران سندھ اور ہوبئی کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سندھ کی جانب سے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید جبکہ ہوبئی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل لونگ شیاؤہونگ اس ورکنگ گروپ کی سربراہی کریں گے۔ گروپ سرمایہ کاری کے مواقع، مشترکہ منصوبوں اور باہمی تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کو پاکستان کی گیٹ وے معیشت اور علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے سندھ کو جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے، جو چینی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو دھابیجی، کورنگی اور خیرپور کے اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان زونز میں ٹیکس مراعات اور ون ونڈو سہولت سمیت سرمایہ کاروں کو کاروبار میں آسانی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی آزمائش کی ہر گھڑی میں ثابت قدم رہی ہے اور اب یہ تعلقات جامع اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سال 2026ء دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کا 75واں سال ہے، جو صوبائی سطح پر اقتصادی تعاون مزید مستحکم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے زراعت کے شعبے میں ہائبرڈ بیجوں کی تیاری، اسمارٹ آبپاشی، زرعی مشینری، ہائبرڈ چاول، کپاس کی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید ٹیکنالوجی میں چین کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا اہم زرعی مرکز ہے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی سے پیداوار اور کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل گورننس، اسمارٹ سٹی سلوشنز اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں بھی مشترکہ منصوبوں کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی نوجوان افرادی قوت اور صنعتی بنیادی ڈھانچہ چینی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں ہوا اور شمسی توانائی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور حکومت صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ سندھ چین کی جدید ٹیکنالوجی اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہوا، شمسی اور ہائبرڈ توانائی کے نظام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مؤثر نظام قائم کیا ہے اور شفافیت، کاروبار میں آسانی اور طویل مدتی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ہوبئی کے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ سندھ میں سرمایہ کاری، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے منصوبوں میں آگے آئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سی سی پی آئی ٹی ہوبئی کو آئندہ سال کراچی میں کاروباری وفد بھیجنے کی دعوت بھی دی۔ ملاقات میں دونوں صوبوں کی کمپنیوں کو تجارتی میلوں، نمائشوں اور سرحد پار ای کامرس پلیٹ فارمز میں شرکت کی دعوت دینے، جبکہ حکومتی اداروں، چیمبرز آف کامرس، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے ہوبئی کے کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو شنگھائی میں منعقد ہونے والی سندھ انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس تعاون سے تجارت، صنعتی ترقی اور باہمی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
کراچی میں 100 کلومیٹر طویل پانی کی پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چین کے شہر ووہان کے ہانیانگ ڈسٹرکٹ میں ایچ بی ایس زیڈ کمپنی کا دورہ کیا، جہاں کراچی میں کے فور منصوبے کے لیے پائپ لائن بچھانے اور سکھر بیراج کی بحالی و جدید کاری کے لیے تیار کیے جانے والے گیٹس کا معائنہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چینی کمپنی کو کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے 100 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اس منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد چاہتی ہے۔ چینی کمپنی نے کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
وزیر آبپاشی جام خان شورو بھی وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ تھے۔ کمپنی حکام نے وفد کو پائپ لائن اور سکھر بیراج کی بحالی کے منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔
مراد علی شاہ نے سکھر بیراج کو سندھ کی معاشی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیراج صوبے کی زرعی معیشت اور آبپاشی کے نظام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 90 سال بعد بیراج کی باقاعدہ بحالی سے پانی کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق سکھر بیراج کے 54 میں سے 44 گیٹس اور انہیں کھولنے کا نظام تبدیل کرکے فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ان گیٹس کے مقامات پر سول مرمت کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔ باقی 10 گیٹس کی تیاری مکمل ہے اور انہیں جلد پاکستان منتقل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ بیراج کے لیے تیار کیے جانے والے ہر گیٹ کا وزن 50 ٹن سے زیادہ ہے۔ بیراج کی نہروں کے 110 گیٹس بھی تبدیل کیے جا رہے ہیں، جبکہ سال 2026ء کی بندش کے دوران 27 نہری گیٹس کے سول ورکس اور اندرونی حصوں کی مرمت مکمل کی گئی۔
منصوبے کے تحت چھ گیج ویلز مکمل کرکے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج کے ٹیل چینل کے علاوہ ڈریجنگ اور کھدائی کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ٹیل چینل پر باقی کام اگلے ورکنگ سیزن میں کیا جائے گا۔
وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ منصوبے کی گیٹ فیبریکیشن ورکشاپ کی عمارت بھی مکمل ہو چکی ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی کا منصوبہ 24 فروری 2023ء کو شروع کیا گیا تھا اور اسے 30 جون 2027ء تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر ہے۔
سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کا ٹھیکہ سی آر بی سی اور ایچ بی ایس زیڈ کے مشترکہ منصوبے کو دیا گیا ہے۔ سندھ بیراج بہتری منصوبے کے تحت سکھر اور گڈو بیراج کی بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ اس منصوبے کو عالمی بینک، حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کی مالی معاونت حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت سکھر بیراج کی بحالی کا کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آبی بنیادی ڈھانچے، جدید ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم ہو رہا ہے۔