وزیراعلیٰ سندھ کا تھری گورجز ڈیم کا دورہ، پانی ذخیرہ کرنے اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے چینی تجربات سے استفادے کا فیصلہ
ییچانگ، چین: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، سیلاب کے نقصانات کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے چین کے جدید آبی انتظامی نظام اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ سندھ اور چین کے درمیان پانی کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پیر کے روز چین کے صوبے ہوبے میں دریائے یانگسی پر واقع دنیا کے معروف تھری گورجز ڈیم کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، جام خان شورو، محمد بخش خان مہر، معاون خصوصی سید قاسم نوید اور سینئر افسران پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔
چینی حکام نے وفد کو ڈیم کی تعمیر، بجلی کی پیداوار، پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب پر قابو پانے اور آبی نقل و حمل کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق ڈیم کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 22 ہزار 500 میگاواٹ ہے اور یہ سالانہ 100 ٹیراواٹ گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون میں تباہ کن سیلاب اور خشک موسم میں پانی کی قلت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں پانی کا مؤثر انتظام صوبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جدید انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے آبی وسائل کو معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نشاندہی کی کہ دریائے سندھ کے نظام میں پانی کی دستیابی کے باوجود مستقبل کی زرعی، شہری اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ اس لیے پانی کے تحفظ، سیلابی نقصانات میں کمی اور آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ چین کے جدید آبی انتظامی نظام کا مطالعہ کریں، بالخصوص آبی ذخائر کی نگرانی اور آپریشن، سیلاب کی پیش گوئی، گاد کے انتظام اور میٹھے پانی کو محفوظ بنانے کی ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں تاکہ ان طریقوں کو سندھ کی ضروریات کے مطابق اپنانے کے امکانات معلوم کیے جا سکیں۔
سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے تحفظ اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کی پیش قدمی روکنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے آبی منصوبوں میں ترقیاتی ضروریات کے ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو بھی یقینی بنانا ہوگا، جبکہ زرعی پیداوار میں اضافے اور سیلاب و خشک سالی سے متاثرہ کمزور آبادیوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تھری گورجز ڈیم میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں ڈیم کی تعمیر اور آبی نقل و حمل کے نظام پر دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر سید مراد علی شاہ نے اس منصوبے کو انجینئرنگ کا حیرت انگیز شاہکار قرار دیا۔
یہ دورہ وزیراعلیٰ سندھ کے ایک ہفتے پر مشتمل سرکاری دورۂ چین کا حصہ ہے، جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چینی حکام نے آبی وسائل کے انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے تکنیکی مہارت اور تجربات کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ دونوں فریقین نے مستقبل میں ادارہ جاتی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق، دورے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ اور ان کا وفد سرکاری دورے کے اگلے مرحلے کے لیے ووہان روانہ ہوگیا۔