افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی یورپی یونین کے خصوصی نمائندے اور قطری سفیر سے الگ الگ ملاقاتیں، انسدادِ منشیات، انسانی خدشات اور عالمی روابط پر تبادلہ خیال
کابل: افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے افغانستان کے لیے یورپی یونین کے نئے خصوصی نمائندے تھامس فریلیسن اور قطر کے سفیر ڈاکٹر مردف القاشوطی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سیاسی صورتحال، انسانی خدشات، انسدادِ منشیات اور عالمی برادری کے ساتھ افغانستان کے روابط مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس فریلیسن سے ملاقات کے دوران افغانستان کی سیاسی صورتحال، انسانی مسائل اور منشیات کے خاتمے کے اقدامات زیرِ بحث آئے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق تھامس فریلیسن نے افغانستان میں امن و امان کے قیام اور انسدادِ منشیات کے شعبے میں افغان حکومت کی پیشرفت کو سراہا اور یورپی یونین کی جانب سے تعاون جاری رکھنے اور باہمی روابط بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا کہ انسدادِ منشیات کے شعبے میں نمایاں پیشرفت کے باوجود عالمی برادری نے مقامی کاشتکاروں کو متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کی کاشت کے خاتمے کے لیے متاثرہ کسانوں کو متبادل معاشی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب کابل میں قطر کے سفیر ڈاکٹر مردف القاشوطی سے ملاقات میں افغانستان اور قطر کے دوطرفہ تعلقات اور عالمی برادری کے ساتھ اسلامی امارت افغانستان کے روابط مضبوط بنانے کے لیے قطر کی کوششوں اور سفارتی سہولت کاری پر گفتگو ہوئی۔
افغان وزارت خارجہ کے مطابق مولوی امیر خان متقی نے عالمی برادری کے ساتھ افغانستان کے تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر قطری سفیر نے افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور تعلقات میں پیشرفت کو امید افزا قرار دیا۔
کابل، وزیر داخلہ سے یورپی یونین کے خصوصی ایلچی کی ملاقات
کابل(وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی سے افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی ایلچی ٹامس نکلسن اور ان کے ہمراہ وفد نے ملاقات کی، جس میں افغانستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات، ملک کی سیکیورٹی صورتحال، علاقائی استحکام اور منشیات کے خلاف جدوجہد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں افغان مہاجرین کی صورتحال، ان کی وطن واپسی، انسانی ہمدردی کے امور اور افغانستان و پاکستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے علاقائی کوششوں کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔