اٹک: دوہرے قتل میں ملوث مبینہ اجرتی قاتل شاہ سعود سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا

اٹک: دوہرے قتل میں ملوث مبینہ اجرتی قاتل شاہ سعود سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا

اٹک، 29 ستمبر 2026: دریائے سندھ سے اربوں روپے مالیت کا سونا (پلیسر گولڈ) نکالنے کے غیر قانونی کاروبار کی مبینہ دشمنی پر تھانہ رنگو کے علاقے ویسہ، ملہو موڑ پر دو افراد کو قتل کرنے کے مقدمے میں مطلوب اجرتی قاتل شوٹر گینگ کا سرغنہ شاہ سعود سی سی ڈی اٹک کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، جبکہ فائرنگ کرنے والے دیگر ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں غیر قانونی طور پر سونا نکالنے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے درمیان کاروباری رقابت اور دشمنی کے باعث قتل و غارت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ اسی مبینہ کاروباری دشمنی کے نتیجے میں تھانہ رنگو کے علاقے ملہو موڑ، گاؤں ویسہ میں جبی، نوشہرہ کے رہائشی عاطف نیاز اور عبدالشکور کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

مقتولین پلیسر گولڈ کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث شاہ سعود ولد احمد شاہ، سکنہ اکوڑہ خٹک، کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، تاہم وہ پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

ذرائع کے مطابق شاہ سعود پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اجرتی قتل کی متعدد وارداتوں میں مطلوب اور شوٹر گینگ کا سرغنہ تھا۔ اسے مبینہ طور پر عطاء اللہ خان جبی نظام پور کا دست راست بھی قرار دیا جاتا تھا۔

پولیس کے مطابق سی سی ڈی اٹک کی ٹیم نے تھانہ اٹک خورد کی حدود میں رومیاں لنک روڈ، نزد حاجی شاہ ڈیم، اٹک پر ناکہ بندی کررکھی تھی کہ اس دوران مبینہ شوٹر گینگ کے ارکان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے تبادلے میں شاہ سعود اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ دیگر حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

سی سی ڈی پولیس کے مطابق ہلاک ملزم کے قبضے سے 30 بور پسٹل برآمد ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، جبکہ شاہ سعود کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کی گئی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔

دریائے سندھ میں سونے کے غیر قانونی کاروبار پر سنگین سوالات

دریائے سندھ سے پلیسر گولڈ نکالنے کا غیر قانونی کاروبار گزشتہ تقریباً 25 سال سے جاری ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس کاروبار میں غیر معمولی تیزی آنے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی سطح پر یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ اس کاروبار میں بااثر افراد، بعض سرکاری عہدیداروں اور طاقتور حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ دریائے سندھ کے کناروں پر آباد علاقوں کے متعدد افراد کے مالی حالات میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق بعض افراد کروڑوں روپے کے اثاثوں، بنگلوں اور گاڑیوں کے مالک بن چکے ہیں، تاہم ان اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کی باضابطہ تحقیقات اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں کے حوالے سے کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

دریائے سندھ سے سونا نکالنے کے غیر قانونی کاروبار، اس سے وابستہ مبینہ جرائم اور کاروباری دشمنیوں کے باعث ہونے والے قتل کے واقعات نے متعلقہ اداروں کی نگرانی، غیر قانونی دولت کے ذرائع اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں