پاکستان میں علاقائی فضائی رابطوں اور معاشی انضمام کے ایک نئے دور کا آغاز، سائوتھ ایئر کی گوادر کیلئے افتتاحی آزمائشی پرواز کامیاب

پاکستان میں علاقائی فضائی رابطوں اور معاشی انضمام کے ایک نئے دور کا آغاز، سائوتھ ایئر کی گوادر کیلئے افتتاحی آزمائشی پرواز کامیاب

اسلام آباد / کراچی / گوادر:
پاکستان میں علاقائی فضائی رابطوں، اقتصادی ترقی اور قومی یکجہتی کے فروغ کیلئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں نئی علاقائی ایئرلائن “سائوتھ ایئر” نے کراچی سے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک اپنی افتتاحی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کرکے ملکی ہوا بازی کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کر دی۔

سائوتھ ایئر کی پرواز Z8-905 کامیابی کے ساتھ گوادر پہنچی، جسے بلوچستان اور ملک کے دیگر دور دراز علاقوں کو قومی معاشی دھارے میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایئرلائن حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا نہیں بلکہ اُن پسماندہ اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں کو بہتر فضائی سہولیات فراہم کرنا ہے جہاں ماضی میں رابطوں کی شدید کمی رہی ہے۔

سائوتھ ایئر کی مجوزہ پروازوں میں گوادر، پنجگور، تربت اور کوئٹہ شامل ہیں جبکہ سیہون شریف اور ڈیرہ اسماعیل خان کیلئے روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز شروع کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاراچنار، اسکردو اور چترال کیلئے بھی فضائی آپریشنز کی درخواستیں دی جا چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بلوچستان بلکہ جنوبی خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں، سیاحت، سرمایہ کاری اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ کاروباری افراد اور سرمایہ کار اب ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقیاتی منصوبوں تک زیادہ تیزی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں گے، جبکہ سیاحوں کیلئے پاکستان کے خوبصورت اور ثقافتی اہمیت کے حامل علاقوں تک محفوظ اور تیز فضائی سفر ممکن ہو سکے گا۔

صحت کے شعبے میں بھی اس اقدام کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو ہنگامی طبی سہولیات اور بڑے شہروں کے اسپتالوں تک بروقت رسائی میسر آ سکے گی۔

سائوتھ ایئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ اور جدید بین الاقوامی ایئرپورٹ کے درمیان بہتر رابطہ شہر کو ایک جدید کمرشل اور ٹرانزٹ حب میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جہاں سمندری اور فضائی ٹرانسپورٹ ایک دوسرے کی تکمیل کریں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے بھی پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کو اس وقت شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا جب بین الاقوامی ریگولیٹرز کی پابندیوں کے باعث یورپی یونین اور برطانیہ کے اہم روٹس معطل ہوگئے تھے، جس سے مالی اور ساکھ کے حوالے سے بڑا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کئی سال کی اصلاحات، سخت نگرانی اور پیشہ ورانہ کاوشوں کے بعد عالمی ہوا بازی کے اداروں کا اعتماد بحال کیا گیا اور پاکستان نے ایوی ایشن سیفٹی کے اعلیٰ ترین معیارات پر عملدرآمد یقینی بنایا۔

خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان بین الاقوامی پروازوں اور عالمی سطح پر اپنی حیثیت کی مکمل بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے، بعض نجی شعبے کے عناصر کی جانب سے ریگولیٹری اداروں پر میڈیا تنقید تشویشناک ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ قومی ایوی ایشن سیکٹر کی ساکھ کی بحالی کیلئے اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے بجائے تعاون کا مظاہرہ کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سائوتھ ایئر کا آغاز، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی فعالیت اور حکومتی سطح پر ایوی ایشن اصلاحات، یہ تینوں عوامل مل کر پاکستان کے فضائی، تجارتی اور علاقائی رابطہ نظام کو ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو گوادر مستقبل میں نہ صرف سی پیک بلکہ پورے خطے کیلئے ایک اہم تجارتی، فضائی اور لاجسٹک مرکز بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت، سیاحت اور علاقائی تجارت کو طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں