پشاور ہائیکورٹ: صحافیوں کو کم از کم 45 ہزار روپے تنخواہ دیں، بقایاجات ایک ماہ میں ادا کریں، عدالت
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے اخبار مالکان کی جانب سے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے اشتہارات کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کو قانون کے مطابق کم از کم 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دینا ہر صورت لازم ہے۔
جسٹس محمد اعجاز خان نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت اخبار مالکان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کی مد میں بقایاجات ادا نہ ہونے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے عدالت کو بتایا کہ صحافیوں کی 17 شکایات موصول ہوئی ہیں اور متعدد اخبارات اپنے ملازمین کو کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہیں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اخبارات پر صحافیوں کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کے بقایاجات بھی واجب الادا ہیں۔
جسٹس محمد اعجاز خان نے ریمارکس دیے کہ بعض اخبارات اپنے صحافیوں کو صرف 5 ہزار، 8 ہزار اور 10 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دے رہے ہیں، جبکہ ایک درخواست میں پانچ ماہ کی 75 ہزار روپے تنخواہ کی عدم ادائیگی کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس صورتحال پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔
عدالت نے کہا کہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ہے اور ہر ادارہ قانون کے مطابق اپنے ملازمین کو یہ تنخواہ دینے کا پابند ہے۔ جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیے کہ “اخبار مالکان کروڑوں کماتے ہیں لیکن صحافیوں کو 8 سے 10 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں، موجودہ مہنگائی میں یہ ناقابل قبول ہے۔”
اخبار مالکان کے وکیل نے استدعا کی کہ حکومت بقایاجات جاری کرے تاکہ ملازمین کو تنخواہیں اور واجبات ادا کیے جا سکیں۔ اس پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے ملازمین کے بقایاجات اور تنخواہیں ادا کی جائیں، حکومت کی جانب سے واجبات بھی جاری کر دیے جائیں گے اور یہ رقم کہیں نہیں جا رہی۔
ایڈوکیٹ جنرل نے تجویز دی کہ اخبارات ملازمین کی تنخواہیں بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادا کریں تاکہ اصل ادائیگی کا ریکارڈ موجود رہے۔
عدالت نے اخبار مالکان کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ صحافیوں اور ملازمین کے بقایاجات کلیئر کیے جائیں اور آئندہ سماعت پر اس حوالے سے رپورٹ جمع کرائی جائے، بصورت دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔