پاکستان ٹیلی وژن کی سابق نیوز کاسٹر اور
دارالحکومت کی ممتاز سماجی شخصیت جہاں آرا معین
آج اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
وہ ایک بہت پڑھی لکھی، سلجھی ہوئی اور سماجی طور فعال خاتون تھیں۔ جہاں آرا 1973 میں شادی سے پہلے پاکستان ٹیلی وژن نیوز سے وابستہ ہوئیں۔ جہاں انہوں نے انگریزی خبروں کی بیک گرائونڈ کمنٹری سے کام کا آغاز کیا اور پھر جلد ہی باقاعدہ نیوز کاسٹر بن گئیں۔
1975 میں ان کی شادی کے بعد کچھ عرصے کے لیے اس کام میں تعطل آیا لیکن 1983 سے پھر انہوں نے دوبارہ خبریں پڑھنا شرع کیں اور تبھی میری ان سے ملاقات ہوئی اور ایک طویل عرصے تک ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ 1999 تک پی ٹی وی نیوز کے ساتھ رہیں۔
جہاں آرا معین ایک بہت اچھی انسان اور اتنی ہی اچھی پروفیشنل تھیں۔ خبروں کی درست ادائیگی پر بہت محنت کرتی تھیں اور اپنے آپ کو حالاتِ حاضرہ سے با خبر رکھتی تھیں، جو ان دنوں کے نیوز کاسٹرز میں ایک غیر معمولی بات تھی۔
جہاں آرا معین میں اپنے ارد گرد کے ماحول اور سماج کی بہتری کے لیے بے پناہ جذبہ تھا۔ اس جذبے کے تحت انہوں نے 1990 کی دہائی میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے ساتھ کام شروع کیا جو ان کی وفات تک جاری رہا۔ وہ پچھلے پینتیس سال سے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان کے ماحولیاتی تعلیم کے پروگرام کی سربراہ تھیں۔
وہ ساتھ ہی ساتھ فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی راولپنڈی میں وزیٹنگ فیکلٹی ممبر کے طور پر بھی کام کر رہی تھیں۔ اس سے پہلے انہوں نے بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی کچھ عرصے تک بزنس کمیونی کیشن کی تعلیم دی۔ انہوں نے اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ، ورلڈ بنک، یونیسکو اور یو این ڈی پی کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ بھی کام کیا۔
وہ ایک توانائی سے بھرپور شخصیت تھیں۔ اتنے سارے کاموں کے باوجود اپنے دوستوں کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں رہتی تھیں اور انہیں مفادِ عامہ کے کام کرنے کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔
ان کی وفات سے ملک اور اسلام آباد اپنے ایک بڑے شہری سے محروم ہو گیا ہے۔
جہاں آرا معین نے اپنے یاد کرنے والوں میں اپنے تین بیٹوں عمر معین ملک، علی معین ملک اور احمد معین ملک، بہووؤں، پوتے پوتیوں اور بے شمار دوستوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔
پوسٹ بشکریہ: ساجد منصور قیصرانی