*”سندھ میں ایک اور خاموش قتل سسرالیوں نے بیٹی اور ماں کو قتل کر کے خفیہ طور پر دفن کر دیا”*
ضلع دادو کے نواحی گاؤں باقرانی وجو گوٹھ شادھن جتوئی میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا۔ یہاں نگہمہ بنت دلشاد جتوئی نامی خاتون کو ان کی والدہ شاہدہ جتوئی کے ہمراہ سسرالیوں نے قتل کر ڈالا۔ دونوں کو چپکے سے اتنا خفیہ طریقے سے دفن کیا گیا کہ کسی کو بھنک تک نہ پہنچ سکی۔ گاؤں والوں کے مطابق، مقتولہ نگہمہ کی شادی کچھ ہی عرصے قبل ہوئی تھی مگر جہیز اور دیگر معمولی معاملات پر اسے روزانہ ستایا جاتا تھا۔
جب معاملہ کسی طرح روشنی میں آیا تو پولیس نے قبریں کھود کر لاشیں برآمد کر لیں۔ تاہم، اب تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، سسرالی پہلے ہی اثر و رسوخ استعمال کر کے ثبوت مٹانے میں مصروف ہیں۔ اس کیس کی مکمل روداد لکھی جائے تو یہ سندھ کی بیٹیوں کے خلاف روزمرہ ہونے والی ناانصافیوں کی ایک طویل فہرست بن جائے گی۔ یہ وہی سندھ ہے جہاں بے وارث عورتوں کے ساتھ نہ صرف جائیداد بلکہ جان کا تحفظ بھی یقینی نہیں۔
اس خبر کے شروع میں لکھا گیا “نہ کوئی چیخ، نہ کوئی فریاد” دراصل پوری کہانی کا درد بھرا خلاصہ ہے۔ نہ نگہمہ کی ماں شاہدہ کو موقع ملا کہ وہ چیخ کر مدد مانگتی، نہ نگہمہ خود ہی کچھ بول پائی۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں آج بھی حقوقِ نسواں کا نام کوئی لفظ نہیں، اور نام نہاد غیرت یا جہیز کے نام پر روزانہ لاشیں زمین میں اُتاری جاتی ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک قانون کو اپنا کام کرنے نہیں دیا جاتا، اس طرح کے “خاموش قتل” سندھ کی بیٹیوں کو جلاتے رہیں گے۔