### فتح جنگ میں دوہرے قتل کی واردات کا سنسنی خیز انکشاف، بے سہارا اور ذہنی معذوری کے شکار افراد کو اغوا کرکے قتل کرنے والا خطرناک گینگ بے نقاب، خواتین کا اغوا بھی ڈرامہ نکلا، ماسٹر مائنڈ سمیت دو ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک
فتح جنگ: فتح جنگ میں دو افراد کے اندوہناک قتل اور دو خواتین کے اغوا کی واردات کی تفتیش کے دوران ایک ایسے خطرناک گینگ کا انکشاف ہوا ہے جو اپنے مخالفین کو جھوٹے قتل کے مقدمات میں پھنسانے کے لیے ذہنی معذوری کا شکار اور بے سہارا افراد کو پنجاب کے مختلف علاقوں سے اغوا کرکے قتل کرتا اور بعدازاں ان کی لاشوں کو اپنے رشتہ دار ظاہر کرکے مبینہ مخالفین کے خلاف قتل کے مقدمات درج کرواتا تھا۔ اس سفاک گروہ میں مقدمے کی مدعیہ کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دو خواتین کا اغوا بھی تفتیش میں ڈرامہ ثابت ہوا۔
تفصیلات کے مطابق 24 ستمبر کی رات گئے پولیس کو اطلاع ملی کہ فتح جنگ کے ایک کھلے میدان میں قائم دو جھگیوں کے باہر دو افراد کو کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزمان دو خواتین کو اغوا کرکے لے گئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی متعلقہ پولیس افسر نے ڈی پی او اٹک کو صورت حال سے آگاہ کیا اور فوری طور پر ڈی ایس پی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
جائے وقوعہ پر دو جھگیوں کے باہر پڑی چارپائیوں پر دو افراد کی لاشیں موجود تھیں۔ مقتولین میں ایک 11 سالہ معصوم بچہ کجوم اور دوسرا تقریباً 35 سالہ شخص بشکو شامل تھا۔ دونوں کے جسموں پر کلہاڑی کے وار کے نشانات پائے گئے۔ موقع پر دو خواتین اور ایک 20 سے 22 سالہ نوجوان بھی موجود تھا۔
مدعی مقدمہ نے ابتدائی بیان میں الزام عائد کیا کہ 11 مسلح افراد رشتے کے تنازع پر حملہ آور ہوئے، اس کے بیٹے کجوم اور رشتہ دار بشکو کو قتل کیا اور دو بچیوں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ ابتدائی طور پر واقعہ دوہرے قتل اور اغوا کی سنگین واردات دکھائی دے رہا تھا، تاہم پولیس کی باریک بینی سے کی جانے والی تفتیش نے اس مقدمے کی پوری کہانی ہی بدل کر رکھ دی۔
پوسٹ مارٹم کے دوران مدعی فریق کے ایک شخص کے مشکوک طرز عمل اور بیانات میں تضادات سامنے آنے پر اسے مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔ مقدمے میں نامزد ملزمان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا گیا، لیکن جب تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا تو ایک منظم اور خطرناک اوڈھ گینگ کا انکشاف ہوا، جس کا طریقۂ واردات انتہائی خوفناک تھا۔
تحقیقات کے مطابق یہ گروہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے ذہنی معذوری کا شکار، بے سہارا اور انتہائی غریب افراد کو اغوا کرتا، انہیں قتل کرنے کے بعد اپنی منصوبہ بندی کے تحت ان کی لاشوں کو اپنے رشتہ دار ظاہر کرتا اور کسی مبینہ مخالف کو قتل کے مقدمے میں نامزد کروا دیتا تھا۔ اس طرح بے گناہ افراد کو قتل کرکے ان کی موت کو ذاتی دشمنیوں اور تنازعات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا کہ اس گروہ کی جانب سے اس نوعیت کے مقدمات لیہ، گوجرانوالہ اور بنوں سمیت مختلف علاقوں میں بھی درج کروائے گئے تھے۔ فتح جنگ میں قتل ہونے والا 11 سالہ بچہ کجوم بھی ذہنی معذوری کا شکار تھا، جسے مبینہ طور پر جنوبی پنجاب سے اغوا کرکے لایا گیا تھا۔ پولیس ٹیم اس معصوم بچے کے اصل ورثاء تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ اسی طرح تقریباً 35 سالہ مقتول بشکو بھی ذہنی معذوری کا شکار تھا، جسے اغوا کرکے اس سفاک منصوبے کا حصہ بنایا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ جن دو خواتین کے اغوا کا ابتدائی الزام عائد کیا گیا تھا، ان کا اغوا بھی درحقیقت ڈرامہ تھا اور یہ تمام کارروائی مبینہ طور پر قتل کے مقدمے کو حقیقی رنگ دینے اور مخالفین کو پھنسانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔
پولیس نے گروہ کے خلاف متعدد کارروائیاں اور چھاپے مارے، جن کے نتیجے میں چار کارندوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں گینگ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ حق نواز بھی شامل تھا۔ تاہم گزشتہ دنوں اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ اور معصوم بچے کے اغوا و قتل میں ملوث دو ملزمان پولیس حراست سے فرار ہوگئے تھے۔
آج سی سی ڈی اٹک کی پیشہ ورانہ ٹیم کے ہمراہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے دونوں ملزمان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں گینگ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ملزم بھی شامل بتایا گیا ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش میں شامل پولیس افسر کے مطابق گروہ کا طریقۂ واردات اس قدر غیر معمولی اور خوفناک تھا کہ واقعات کسی سنسنی خیز فلم کی کہانی معلوم ہوتے تھے۔ گینگ بالخصوص انتہائی غریب اور مفلس خاندانوں کے ایسے افراد کو نشانہ بناتا تھا جن کے لاپتا ہونے پر اہل خانہ بعض اوقات گمشدگی کی رپورٹ تک درج نہیں کرواتے تھے۔ ملزمان مبینہ طور پر اسی مجبوری اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان معصوم انسانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔
پولیس افسر نے اپنے تفتیشی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں آج بھی بورے والا میں معصوم صائم رضا کے گھر کا منظر یاد ہے۔ ایک کمرے پر مشتمل انتہائی چھوٹے سے گھر میں جب پولیس ٹیم پہنچی تو بچے کی ماں کی آہیں اور بین ہر شخص کا کلیجہ چیر رہے تھے۔ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کی جدائی میں جس کرب سے گزر رہی تھی، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ صائم رضا کو انصاف دلانے کی جدوجہد اپنی جگہ، لیکن اس ماں کے دکھ اور درد کا مداوا کبھی ممکن نہیں۔ ایسے جرائم معاشرے کے ان بے بس اور محروم طبقات کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں جن کے پاس اپنے پیاروں کی گمشدگی پر آواز اٹھانے کے وسائل بھی موجود نہیں ہوتے۔
پولیس کے مطابق اس گروہ کے انکشافات نے انسانی جانوں کو ذاتی دشمنیوں اور جھوٹے مقدمات کے لیے استعمال کرنے کے ایک منظم مجرمانہ طریقۂ واردات کو بے نقاب کیا ہے۔
فیس بک وال سے