ملتان: رائل آرچرڈ واقعہ، 15 سالہ وسیم عباس سپردِ خاک، آخری دیدار بھی نصیب نہ ہو سکا



ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں مبینہ تشدد اور گاڑی تلے کچلے جانے سے جاں بحق ہونے والے 15 سالہ وسیم عباس کو رات 2 بجے چند افراد کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ورثا کے مطابق لاش ناقابلِ شناخت تھی اور چہرہ بری طرح کچلا ہوا تھا، جس کے باعث اہلِ خانہ آخری دیدار بھی نہ کر سکے۔
وسیم عباس ایک بیوہ ماں کا بڑا بیٹا اور اپنے آٹھ سالہ چھوٹے بھائی کا واحد بھائی تھا۔ وہ روزگار کا ہنر سیکھنے کے لیے آیا تھا، لیکن اس کی زندگی ایک ایسے المناک واقعے کی نذر ہوگئی جس نے غربت، کم عمری میں محنت مزدوری اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
زیرِ گردش اطلاعات کے مطابق کام میں تاخیر پر نوجوان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جان بچانے کے لیے بھاگنے پر گاڑی کے ذریعے تعاقب کرکے اسے کچلنے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ واقعے کی تمام تفصیلات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
یہ محض ایک بچے کی موت نہیں، ایک غریب ماں کے سہارے، ایک کم سن بھائی کے رشتے اور ایک خاندان کی امیدوں کا بھی خاتمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک یتیم بچے کو روزگار کا ہنر سیکھنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اتنی بڑی قیمت کیوں چکانا پڑی؟
المیہ یہ بھی ہے کہ معاشرے میں ہونے والے متعدد مظالم اس وقت تک توجہ حاصل نہیں کر پاتے جب تک ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوں۔ کتنے ہی مزدور، بچے اور غریب افراد ایسے ہوں گے جن کی آواز طاقتور حلقوں کے دباؤ میں دب جاتی ہے اور جن کے لیے انصاف مانگنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
چند وائرل واقعات پر کارروائی کرنا کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شہری کی جان و عزت کا تحفظ یقینی بنایا جائے، کم عمر محنت کشوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کی سماجی حیثیت سے بالاتر ہو کر جواب دہ بنایا جائے۔
وسیم عباس کی تدفین کے ساتھ ایک ماں کے دکھ کی داستان ختم نہیں ہوئی؛ اصل سوال اب انصاف کا ہے۔ کیا اس خاندان کو انصاف ملے گا؟ کیا واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ اور کیا غریب کو بھی یہ یقین نصیب ہوگا کہ اس کی جان اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بااثر شخص کی؟
انصاف صرف اسی وقت ہوگا جب اس المناک واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔