خیبرپختونخوا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران مردان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سابق ناظم قادر نصیر کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آگئیں، تاہم واقعے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
سینئر صحافی اسماعیل خان نے مردان سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع کی تردید کی، جبکہ مردان سے تعلق رکھنے والی سابق رکن صوبائی اسمبلی شازیہ اورنگزیب خان نے قادر نصیر کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پی ٹی آئی کے سابق ناظم تھے اور ہوتی سے تعلق رکھتے تھے۔ شازیہ اورنگزیب کے مطابق قادر نصیر پولیس کے ساتھ جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلقے میں تقریباً 500 افراد جمع ہوئے، جہاں مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ، پولیس کے لاٹھی چارج اور نادرا مرکز کو آگ لگانے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ صحافی اسماعیل خان کے مطابق واقعے میں چھ شہری زخمی ہوئے، جو اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لیا، جبکہ تین سے چار پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان کی رہائی کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی، تاہم اسماعیل خان کے مطابق صورتحال قابو میں تھی۔
مردان میں پولیس اہلکاروں کو عوام کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم ان کی تصدیق اور قادر نصیر کی ہلاکت کے مقام و حالات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔