اقرار الحسن چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے، ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عدالت میں پیش

اقرار الحسن چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے، ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں عدالت میں پیش

کراچی: عوام راج تحریک کے سربراہ اور ٹی وی میزبان اقرار الحسن کو سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کردیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن سے استفسار کیا کہ کیا ان پر تشدد کیا گیا ہے؟ اس پر اقرار الحسن نے جواب دیا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔ عدالت نے ان سے پوچھا کہ کیا ان کا کوئی وکیل ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ تاحال کوئی وکیل مقرر نہیں کیا۔

این سی سی آئی اے نے عدالت سے اقرار الحسن کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ طلب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے مقدمے کے سلسلے میں تفتیش کرنا ضروری ہے۔ تاہم عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے اقرار الحسن کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

دوسری جانب اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے اپنے شوہر کی حراست سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق اقرار الحسن کو رات تقریباً ڈھائی بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔

فرح اقرار کا دعویٰ ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم افراد چھت کے راستے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا الزام ہے کہ گھر میں داخل ہونے والے افراد نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، نازیبا زبان استعمال کی اور گالم گلوچ کی۔ فرح اقرار کے مطابق مرد اہلکاروں کے مبینہ حملے کے نتیجے میں ان کا ہاتھ اور بازو بھی زخمی ہوئے۔

اقرار الحسن کی اہلیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کو لے جانے کے دوران گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈی وی آر بھی ساتھ لے جایا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر رپورٹ درج کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اقرار الحسن کی گرفتاری اور ان کے خلاف درج مقدمے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم اہلیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مقدمے کے مکمل قانونی حقائق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں