خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا تیسرا روز، سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ پر واپسی کے امکانات معدوم ہونے کا دعویٰ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا تیسرا روز، سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ پر واپسی کے امکانات معدوم ہونے کا دعویٰ

وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق معطل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عہدے پر واپسی کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے، چاہے صوبے میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج عارضی ہی کیوں نہ ہوں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس آج شام سوا چھ بجے طلب کر لیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں آئینی طریقہ کار کے تحت فیصلہ کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی آج شام طلب کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس ایوانِ صدر میں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت قیامِ امن میں ناکام ہو چکی تھی اور دہشت گردی کے خلاف مبینہ عدم تعاون کا معاملہ بھی موجود تھا۔ ان کے مطابق غیر معمولی حالات میں آئینی دفعات کا استعمال ناگزیر ہو سکتا ہے۔

ادھر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے تیسرے روز پشاور میں معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو گئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج سے کھل گئے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق شروع ہو گئی ہیں۔

عام تعطیل کا نوٹیفکیشن ختم ہونے کے بعد سرکاری دفاتر میں بھی کام کاج بحال ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر کے سرکاری دفاتر میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ٹرانس پشاور کے مطابق بی آر ٹی بس سروس بھی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ تمام مرکزی اور فیڈر روٹس پر بسیں چلنا شروع ہو گئی ہیں، جس کے بعد مسافروں کی آمدورفت معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں