اقرار الحسن لاہور سے مبینہ حراست میں لیے جانے کے بعد کراچی منتقل، اہلیہ کا تشدد اور گھر سے سامان لے جانے کا الزام
کراچی/لاہور: معروف صحافی، ٹی وی میزبان اور پاکستان عوام راج تحریک کے رہنما اقرار الحسن کو لاہور سے حراست میں لینے کے بعد کراچی منتقل کرکے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر پہنچا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اقرار الحسن کے خلاف کراچی میں این سی سی آئی اے میں مقدمہ درج ہے، تاہم مقدمے کی نوعیت اور گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں تاحال سرکاری سطح پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق انہیں رات تقریباً ڈھائی بجے لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع رہائش گاہ سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس نامعلوم افراد چھت کے راستے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔
فرح اقرار نے الزام عائد کیا کہ گھر میں داخل ہونے والے افراد نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور مرد اہلکاروں نے ان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا ہاتھ اور بازو زخمی ہوگئے۔ ان کے مطابق گھر میں داخل ہونے والے افراد نے انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اور گالم گلوچ بھی کی۔
اقرار الحسن کی اہلیہ کا مزید کہنا ہے کہ انہیں اپنے شوہر کی حراست کے دوران گھر سے اقرار الحسن کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈی وی آر بھی لے جانے کا دعویٰ ہے۔
اہل خانہ کے مطابق واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن سے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر رپورٹ درج کرنے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ واقعے کے بعد اقرار الحسن کی مبینہ حراست سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اقرار الحسن کو لاہور سے کراچی منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں این سی سی آئی اے کے دفتر میں رکھا گیا ہے۔ تاہم ان کی گرفتاری کے قانونی محرکات، مقدمے کی تفصیلات اور مبینہ کارروائی کے دوران پیش آنے والے واقعات پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
اقرار الحسن کی حراست اور ان کی اہلیہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل صورت حال واضح ہوسکے گی۔