خیبرپختونخوا کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے، محسن نقوی
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے متعلق خبروں اور تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کو تقسیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی کوئی نیا انتظامی یونٹ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کو معمول پر لانا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت جنوبی پنجاب ماڈل کی طرز پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت ایک مخصوص سیکریٹریٹ فراہم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، جہاں خصوصی توجہ، اضافی فنڈنگ، انتظامی امور میں بہتری اور امن و امان کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں حالات معمول پر لانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔
احتجاج کرنے والوں کو منتشر ہونے کی ہدایت
محسن نقوی نے احتجاج کرنے والے گروہوں کو فوری طور پر منتشر ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اب احتجاج کرنے والوں کو کوئی صوبائی تحفظ حاصل نہیں رہا، اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر منتشر ہو جائیں تاکہ صوبے میں معمولاتِ زندگی بحال کیے جا سکیں۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور حفاظتی تحویل میں لینے سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے اپنے اقدامات کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی توجہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بحالی، عوام کے تحفظ اور انتظامی معاملات کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں حالات معمول پر لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔