خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ، وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اہم ملاقات، صوبے کو ایمرجنسی سے بچانے کے لیے سیاسی رابطوں کا دعویٰ
وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات شروع ہوگئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، خیبرپختونخوا میں امن و امان اور صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق امور پر مشاورت متوقع ہے۔
مولانا فضل الرحمان وزیراعظم کی دعوت پر وزیراعظم ہاؤس پہنچے۔ ان کے ہمراہ وفد میں سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، مولانا لطف الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات سے قبل تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔
سینئر صحافی فدا عدیل کے مطابق تازہ پیش رفت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کو گورنر راج یا ایمرجنسی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا انتظام کرنے پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، مشیر رانا ثناء اللہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور وفاقی وزیر احد چیمہ سمیت دیگر حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔
ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس سے قبل صدر مملکت کو گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے سمیت ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے حتمی فیصلے اور اس کی باضابطہ منظوری کی تصدیق ضروری ہے۔
ادھر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اسٹیک ہولڈرز مشاورت کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ایڈووکیٹ جنرل آفس ان پر عمل کرے گا، تاہم کسی بھی غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 11 ارکان کو مبینہ طور پر اغوا یا گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں آٹھ ارکان صوبائی اسمبلی اور تین ارکان قومی اسمبلی شامل ہیں۔ ان کے مطابق مبینہ طور پر گرفتار یا اغوا کیے گئے افراد میں صوبائی وزرا بھی شامل ہیں۔ اسپیکر نے اس صورتحال کو جمہوری مینڈیٹ اور قانون کی حکمرانی کے لیے تشویشناک قرار دیا۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کے معاملے پر سیاسی رابطوں اور مشاورت کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ یا اس سے متعلق کسی فیصلے کو حتمی قرار دینے کے لیے سرکاری اعلان اور متعلقہ آئینی کارروائی کی تصدیق ضروری ہوگی۔