پشاور میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں بلکہ عوامی راج کی ضرورت ہے، 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تشدد اور مار دھاڑ کی سیاست مسترد کرتے ہیں۔
پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن صوبے میں خاطر خواہ ترقیاتی کام نظر نہیں آ رہے، صوبائی حکومت کو سیاست کے بجائے تعلیم، صحت اور سیاحت پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو آج کا راستہ چھوڑ کر افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا چاہیے، کسی قیدی کی رہائی کے لیے مرکز پر چڑھائی اور عوام کو مشکلات میں ڈالنا درست نہیں۔ عوامی وسائل کا استعمال عوام پر ہونا چاہیے، جلسے جلوسوں اور سیاسی سرگرمیوں پر وسائل ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم موجود ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت میں خلل نہ ڈالا جائے، سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اپنا مؤقف پیش کیا جا سکتا ہے تو اسلام آباد آنا کیوں ضروری ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کس سے بات کرے، مذاکرات کے لیے ذمہ دار شخص کون ہے؟ انہوں نے بیرسٹر گوہر کو اچھا پارلیمنٹیرین اور اچھا وکیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا ان کے پاس کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، بات چیت ان لوگوں سے ہوتی ہے جن کے پاس اختیار ہو۔
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے نیشنل ایکشن پلان کے لیے صوبے کو این ایف سی کی مد میں ساڑھے 8 سو ارب روپے فراہم کیے، صوبائی حکومت کو اس رقم کا ریکارڈ سامنے لانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے خلاف یہ بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ مرکز پیسے نہیں دیتا، حالانکہ وفاق سے آنے والے اربوں روپے کا حساب صوبائی حکومت دے سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کے لیے 35 ارب روپے درکار ہیں، اتنا فنڈ وزیراعلیٰ اپنے حلقے میں خرچ کر لیتے ہیں، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ عوامی سہولیات، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی شعبوں پر توجہ دے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طلبہ کو لیپ ٹاپ کیوں نہیں دیے جا رہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہنگو اور کوہاٹ میں سیکیورٹی فورسز کے جوان اور عوام شہید ہو رہے ہیں، ان کے مطابق ان حالات میں صوبائی حکومت کی قیادت کو امن و امان اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کوہاٹ میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی اور دہشت گردوں کو جواب دیا گیا ہے، کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور پاکستانی عوام نے دل کھول کر مہمان نوازی کی، تاہم اس مہمان نوازی کا صلہ دہشت گردی کی صورت میں ملنا قابل قبول نہیں۔ افغانستان کے ساتھ معاملات طے ہونے کے بعد ہی افغان شہریوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے سیاسی ماحول میں شائستگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 برس میں سیاست کو نفرت کی نظر کیا گیا، تمام سیاست دانوں کو اپنا رویہ درست کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے سے تعزیت اور حال احوال پوچھنے کی روایت برقرار رہنی چاہیے اور جلسوں کے اسٹیج پر نامناسب الفاظ کا استعمال بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے خواتین کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کی روایت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیٹی کو اس کے باپ کے سامنے گرفتار کیا گیا، ایسی روایات ختم ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی قیادت نے کبھی انہیں مخالفین کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کی ہدایت نہیں کی۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ نو مئی کو جلائے جانے والے ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کر دیا گیا ہے، جہاں نئے اسٹوڈیوز قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو اسٹوڈیوز سے فائدہ اٹھانے اور پوڈ کاسٹ بنانے کی دعوت دی اور کہا کہ مسلم لیگ ن آزادیٔ صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے، جہاں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرے گی۔