پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن

پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن

حکومت ایل پی جی کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے لیے نیا شفاف طریقہ کار متعارف کرا رہی ہے، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت ایل پی جی کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے لیے نیا شفاف طریقہ کار متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت مستحق صارفین کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہم کرنے کے لیے خصوصی فنڈز قائم کیے جائیں گے جبکہ سرکاری کمپنیاں عالمی مارکیٹ سے بلک بنیادوں پر ایل پی جی درآمد کریں گی۔منگل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم نے وفاقی وسائل سے 130 ارب روپے فراہم کیے جبکہ صوبوں اور صدر آصف علی زرداری نے بھی اس سلسلے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے ریفائنریز کے ساتھ مل کر اقدامات کیےجس کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ نرمی آئی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن جبکہ روزانہ کھپت 6,500 سے 7,000 ٹن ہے۔ ملک میں مقامی پیداوار تقریباً 2,000 سے 2,500 ٹن یومیہ ہے اور باقی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ماضی میں اس ضرورت کا بڑا حصہ مغربی سرحد کے راستے آتا رہا ہے جبکہ باقی سپلائی سمندری راستے سے درآمد کی جاتی ہے۔ اینگرو اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایل پی جی ٹرمینلز کے ذریعے درآمدی سپلائی کی جاتی ہے جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 14 ہزار ٹن ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی آرامکو کا کنٹریکٹ پرائس (سی پی) مارچ میں 540 ڈالر فی ٹن تھا جو حالیہ عرصے میں بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہو گیا ہے۔ اوگرا اسی عالمی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی قیمتوں میں ردوبدل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016ء کی ایل پی جی پالیسی میں سعودی سی پی اور ایف او بی قیمت کومقامی قیمت کے تعین کی بنیاد بنایا گیا تھاتاہم درآمدات بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچنے کے باوجود اس فارمولے میں بیرون ملک سے ایل پی جی منگوانے کے اخراجات شامل نہیں تھے جس کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں اور غیر قانونی ذرائع سے سپلائی کا رجحان بڑھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سپاٹ مارکیٹ میں سعودی سی پی کے علاوہ 300 سے 400 ڈالر فی ٹن تک پریمیم بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ فریٹ اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد عالمی مارکیٹ سے آنے والی ایل پی جی کی قیمت تقریباً 450 سے 500 روپے فی کلو تک بن سکتی ہے، حکومت قیمتوں کے تعین میں شفافیت کے لیے سعودی آرامکو سی پی، پریمیم، فریٹ اور دیگر اخراجات کی تفصیلات متعلقہ سرکاری کمپنیوں کی ویب سائٹس پر ماہانہ بنیادوں پر جاری کرے گی۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان سٹیٹ آئل، سوئی سدرن کی اپنی ایل پی جی کمپنی اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ سمیت سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومتی سطح پر (جی ٹو جی) اور کاروباری سطح پر (بی ٹو بی) معاہدوں کے ذریعے بلک بنیادوں پر ایل پی جی کی خریداری کے سودے کریں۔ انہوں نے نجی شعبے کو بھی درآمدات کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نجی درآمد کنندہ سرکاری کمپنیوں سے کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کر سکتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پارکو پرل گیس کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ مقامی ایل پی جی کی تقسیم کے لیے پانچ اور دس ٹن کی مقدار میں نیلامی کی جائے گی اور نیلامی کے نتائج بھی شائع کیے جائیں گے۔ اس عمل کی نگرانی سیکرٹری پٹرولیم، چیئرمین اوگرا اور متعلقہ کمپنیوں کے بورڈز کریں گے جبکہ ایل پی جی اوگرا کے لائسنس یافتہ تقسیم کاروں میں فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مشکل اور دور درازعلاقوں کے لیے ایل پی جی پالیسی کےتحت مختص 10 فیصد کوٹے پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔ سرکاری کمپنیاں مقامی پروڈیوسرز سے یہ کوٹہ حاصل کریں گی اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے مشاورت کے بعد ان اضلاع کا تعین کیا جائے گا جہاں اس سہولت کی ضرورت ہےتاکہ ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نےبتایا کہ نیلامی میں پروڈیوسر کی ایف او بی قیمت سے زائدحاصل ہونے والی رقم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ اور وَلنریبل پروٹیکشن فنڈ میں منتقل کی جائے گی۔ حکومت وزارت توانائی، صوبوں اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے مستحق صارفین کے لیے اہلیت کا معیار طے کرے گی۔ وزیراعظم کی منظوری سے ایسے صارفین کے لیے رعایتی قیمت مقرر کی جا سکے گی، مثلاً ایل پی جی کی قیمت 300 یا 400 روپے فی کلو مقرر کرنا یا فی کلو 50 روپے کی رعایت دینا، تاکہ مستحق افراد کو کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی کی مارکیٹ میں گٹھ جوڑ اورقیمتوں میں مصنوعی اضافے کی روک تھام کے لیے مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا جبکہ اوگرالائسنسنگ کے عمل کو مزید شفاف بنائے گا اور ذخیرہ کرنےکی سہولتوں کا آڈٹ بھی کرے گاتاکہ کوئی کمپنی یا ڈیلر منافع خوری کے لیے ایل پی جی ذخیرہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارہ سلنڈرز اور بائوزرز کے معیار، حفاظتی اقدامات اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی نگرانی بھی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ گیس کنکشنز ہیں اور پائپ لائن نیٹ ورک سے باہر رہنے والے صارفین کی بڑی تعداد ایل پی جی استعمال کرتی ہے،سردیوں میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے حکومت کو مہنگا ایندھن یا ایل این جی خریدنا پڑ سکتی ہے اور ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی محدود بھی کرنا پڑ سکتی ہے تاہم کوشش ہوگی کہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں گیس فراہم کی جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو مستقبل میں توانائی کے تحفظ کے لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، ریفائنریز اور ایل پی جی کی سپلائی چین بہتر بنانا ہوگی،عالمی سطح پر ایل پی جی کی ترسیل پریشرائزڈ کنٹینرز سے ریفریجریٹڈ اور کرائیوجینک کارگو کی جانب منتقل ہو رہی ہےجس کے لیے بڑے وی ایل جی سی جہازوں اور ریفریجریٹڈ یا کرائیوجینک ایل پی جی وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نئے طریقہ کار کے فوائد سردیوں سے پہلے عوام تک پہنچیں اورپاکستان توانائی کے شعبے میں ایک بہتر نظام قائم کر سکے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایل پی جی سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دیتے ہوئے اجارہ داری کے خاتمہ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے عالمی توانائی بحران کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے، ٹارگٹڈ فیول ریلیف سکیم کے ذریعے مستحق طبقات کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے، پہلی مرتبہ آئل ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا۔ منگل کو یہاں وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے پورے بحران کے دوران عوامی مفادات کو ترجیح دی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ پہلے مرحلے میں 133 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی جس کے ذریعے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے اور ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے گئے۔ اب ٹارگٹڈ سبسڈی کے تحت فیول ریلیف سکیم جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی سوچ اور وژن کے مطابق ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ فیول ریلیف سکیم سے محروم اور مستحق طبقات مستفید ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آئل ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسابقت کو فروغ دیا جائے، چند افراد کی اجارہ داری اور طویل عرصے سے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کئے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریفائنریوں سے منافع واپس لے کر عوام کو منتقل کیا گیا، ایسا ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور توانائی کا بحران پیدا ہوا تاہم پاکستان میں وزیراعظم نے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں وزیراعظم کی عوام کے لیے فکر، احساس اور ریلیف فراہم کرنے کا عزم نمایاں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی سیکٹر میں مسابقت کا فروغ ایک تاریخی اقدام ہے، اس سے قبل کسی حکومت نے چند افراد کی اجارہ داری ختم کرکے میرٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو تنہا ءنہیں چھوڑا، اسٹرکچرل ریفارمز کیں اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کیے۔ اوگرا نے اپنی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات شائع کرنا شروع کر دی ہیں جو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شوگر سیکٹر نے پہلی مرتبہ ٹیکس کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو جمع کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اضافی اقدامات کے ذریعے عوام پر بوجھ کم کیا جا رہا ہے اور منافع کمانے والے اور ٹیکس ادا کرنے کی استطاعت رکھنے والے شعبوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ٹیکس جمع کرائیں اور حب الوطنی کا مظاہرہ کریں۔ یہ اقدامات مجموعی طور پر اصلاحات کا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے سردیوں میں گیس کی فراہمی کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے اور تمام وزراء کو ریلیف کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے جس پر عمل جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وزیراعظم نے خصوصی کاوشیں کیں اور مشکل ترین حالات میں عارضی طور پر اس میں کمی بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کا ایک نظام موجود ہے تاہم جہاں ریلیف کی گنجائش موجود ہے، وہاں خصوصی کوششیں کرکے وزیراعظم عوام کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں متعلقہ معاملات زیر بحث آئے ہیں، جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز اور ممکنہ حل پیش کریں اور تکنیکی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کریں، جہاں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی گنجائش ہوگی، وہاں ضرور اقدامات کیے جائیں گے تاہم اس حوالے سے پہلے ہی کافی کام جاری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان وفاقی حکومت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور وزیراعظم نے اس حوالے سے جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سہولیات کی فراہمی کے لیے 100 میگاواٹ کے پاور پراجیکٹ اور سولر پینلز کی فراہمی سمیت متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس پاور پراجیکٹ کی فنڈنگ بھی وفاقی حکومت کر رہی ہے جس پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جگلوٹ سکردو روڈ پر کام جاری ہے اور مختلف کوریڈورز تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان وفاقی حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے اور وہاں پیش آنے والے واقعے کی بھرپور تحقیقات جاری ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اصلاحات کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آئی تو اس سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ نئے نظام کے نفاذ سے متاثر ہونے والے زیر التوا مقدمات کی موثر پیروی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں