چوہدری سالک حسین کے کرپشن الزامات پر ہرجانے کا نوٹس بھجوا رہی ہوں، ثبوت دیں ورنہ عدالت جاؤں گی، مریم نواز شریف کا دوٹوک اعلان
اٹک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چوہدری سالک حسین کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، بصورت دیگر جھوٹے الزامات عدالت میں لے کر جاؤں گی۔ چوہدری سالک حسین میں اخلاقی جرات ہے تو وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساڑھے تین سال میں کرپشن کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، بچوں کے سامنے حلف اٹھا کر کہہ سکتی ہوں کہ ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی، اگر ثابت ہو جائے تو عوام اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار کامسیٹس یونیورسٹی اٹک کیمپس میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری سالک حسین نے گجرات میں پنجاب حکومت کی کرپشن سے متعلق الماریاں بھرنے کا الزام لگایا ہے، جھوٹا الزام لگانے والے وفاقی وزیر کو ہرجانے کا نوٹس بھجوا رہی ہوں۔ بات کرپشن کی نہیں بلکہ تکلیف اس بات کی ہے کہ ہماری مرضی کا ڈپٹی کمشنر گجرات کیوں تعینات نہیں کیا گیا۔ میں سفارش پر ڈی سی نہیں لگاتی کیونکہ یہ امانت میں خیانت کے مترادف ہے، سفارش پر آنے والے ملک کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں اب محنت اور سو فیصد میرٹ پر کام ہوتا ہے، کسی کو سیاسی سفارش پر عہدہ نہیں دیا جاتا۔ ماضی میں سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں گجرات بارش کے بعد پانی میں ڈوب جاتا تھا، لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں پر گھروں کو جاتے تھے کیونکہ موٹر سائیکل اور گاڑیاں نہیں چل سکتی تھیں، تاہم اب ڈیڑھ سے دو سال کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے باعث گجرات میں پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ پنجاب میں کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور ایک ایک منصوبہ تین تین سو ارب روپے کا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں بچوں کے سامنے اپنا کارکردگی رپورٹ کارڈ لے کر آئی ہوں، دوسروں کی خامیاں بیان کرنے نہیں آئی۔ ماں ہونے کے ناطے بچوں کی کامیابی منانے کے لیے خود اٹک پہنچی ہوں۔ پنجاب کا ہر بیٹا اور ہر بیٹی مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز ہے۔ ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ پروگرام محض تعلیمی منصوبے نہیں بلکہ ایجوکیشن ریولوشن ہیں، اب کوئی بچہ بنیادی سہولیات اور مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 3600 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپ دی جا رہی ہے۔ راولپنڈی ڈویژن کے طلبہ میں 6161 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 19 کروڑ 69 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کے 2590 وظائف تقسیم کیے گئے۔ ہونہار طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد 40 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 12 ہزار کر دی گئی ہے جبکہ مختلف اضلاع میں 48 ہزار 292 لیپ ٹاپ طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ہونہار اسکالرشپ حاصل کرنے والے ہر بچے کی اپنی جدوجہد اور کامیابی کی کہانی ہے۔ ایک بچی والدہ کے انتقال کے بعد مالی مشکلات کا شکار تھی، اسکالرشپ ملنے سے اس کے مسائل حل ہوئے جبکہ ایک طالب علم کے والد مزدور ہیں، اسکالرشپ ملنے پر وہ بہت خوش ہے۔ ماضی میں بہت سے قابل بچے صرف فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے تھے، لیکن اب کسی کو مالی وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چند روز میں طلبہ کے لیے ای بائیک منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت طالبات کو پنک اور طلبہ کو بلیک الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں تعلیمی اداروں تک آمدورفت میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کے تحفظ کے لیے امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی گئی ہے تاکہ وہ بائیک پر اکیلے بھی محفوظ سفر کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 300 نواز شریف اسکول آف ایمننس قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں ایئرکنڈیشنڈ کلاس رومز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس لیبز اور سائنس لیبز کی سہولیات ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اسکول آف ایمننس کا معیار گرامر اسکولوں سے بھی بہتر ہوگا اور یہ تعلیمی انقلاب کا ذریعہ بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اٹک میں 850 کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں، گرین بسیں چلائی گئی ہیں، بس اسٹینڈز بنائے گئے ہیں جبکہ شہر میں اربوں روپے کے سیوریج اور ڈرینج منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں ہسپتالوں میں مفت ادویات اور مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اڑھائی لاکھ گھر بنانے کے لیے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت مستحق افراد کو گھر بنانے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
مریم نواز شریف نے طلبہ سے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، تنقید سے گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کے بجائے محنت جاری رکھیں، دنیا آپ کے قدموں میں ہوگی۔ والدین کا احترام کریں، ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور ان کے خواب پورے کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے طلبہ سے ملک و قوم کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے، پاکستان کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دینے اور اپنے گلی محلوں اور شہروں کو صاف رکھنے کا عہد بھی لیا۔
**اٹک میں 23 ارب روپے کے 59 سڑکوں سمیت 127 منصوبوں کا افتتاح**
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دورہ اٹک کے دوران 23 ارب روپے کی لاگت سے 59 سڑکوں کے منصوبوں سمیت مجموعی طور پر 127 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں ایگری مال، اراضی ریکارڈ سنٹر، ماڈل چلڈرن ہوم، فتح جنگ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر، فتح جنگ پنڈی گھیب روڈ، ڈھوک لاہم تا جھمٹ روڈ اور مٹھیال چوک تا ڈھوک پٹھان روڈ سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اٹک کے مرکزی بازار پلیڈر لائن میں ٹف ٹائلز، جدید لائٹس، لائبریری بوتھ اور گرین بس منصوبے کا افتتاح کیا۔ اٹک شہر میں تین روٹس پر 15 الیکٹرو بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بسوں کا معائنہ بھی کیا۔
**اٹک میں تاریخی استقبال، عوام نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر دیں**
وزیراعلیٰ کی اٹک آمد پر شہر میں جشن کا سماں رہا، مختلف مقامات پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خواتین، بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں سمیت ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے، ہٹیاں روڈ، کامرہ روڈ اور یونیورسٹی روڈ سمیت مختلف شاہراہوں پر منوں گلاب کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ مرکزی بازار میں تاجروں اور نوجوانوں نے ان کی گاڑی پر پھول برسائے جبکہ روایتی ڈاچی رقص کے ذریعے بھی استقبال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی حصار سے نکل کر بچوں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے ہمراہ منصوبوں کا افتتاح کیا۔
**رش اور بدانتظامی کے باعث دورے کا شیڈول متاثر**
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے دورہ اٹک کے دوران غیر معمولی عوامی رش اور دھکم پیل کے باعث بعض سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق شہر میں بیوٹیفکیشن کے ایک اہم منصوبے کا افتتاح ادھورا رہ گیا جبکہ رش کے دوران ڈپٹی کمشنر، دیگر اعلیٰ افسران اور اے ڈی سی انفورسمنٹ انعم بابر کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بے قابو ہجوم کے باعث وزیراعلیٰ نے شہر کا دورہ مختصر کیا اور کامسیٹس یونیورسٹی اٹک کیمپس کی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئیں۔ مسلم لیگ (ن) کی مقامی منتخب قیادت اور رہنما مختلف مقامات پر استقبال کے لیے موجود تھے۔
**اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد قرضے جاری**
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکیم کے پورٹل پر 17 لاکھ سے زائد افراد نے اندراج کرایا ہے، جبکہ 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ پروگرام کے تحت 128718 گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور 62600 گھر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ 171597 افراد کو قرضے کی دوسری قسط بھی مل چکی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ قرضوں کی واپسی کی شرح 97.6 فیصد رہی جبکہ 22 ارب 29 کروڑ روپے کی اقساط وصول ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اسکیم کے لیے نئی درخواستیں طلب کرنے کی منظوری دیتے ہوئے مقررہ اہداف مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اپنی چھت، محفوظ چھت اسکیم کے تحت 3055 درخواست گزاروں کو ایک ارب 21 کروڑ 60 لاکھ روپے کے قرضے فراہم کیے گئے جبکہ 532 گھروں کی تعمیر اور توسیع مکمل ہو چکی ہے۔
تقریب میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزراء عظمیٰ بخاری، رانا سکندر حیات، ملک صہیب احمد بھرت، بلال اکبر خان، ارکان قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد، ملک سہیل خان کمڑیال، رکن آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی راجہ محمد صدیق، چیئرمین واسا پنجاب نوابزادہ چوہدری شیر علی خان، رکن پنجاب اسمبلی ملک اعتبار خان، سابق صوبائی وزیر جہانگیر خانزادہ، سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار افتخار احمد، مسلم لیگ (ن) کے مقامی عہدیداران، سرکاری افسران اور ہزاروں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ خیبرپختونخوا اور صوابی سے آنے والے طلبہ نے بھی اسکالرشپ فراہم کرنے پر وزیراعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں پورٹریٹ اور اسکیچز پیش کیے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ایک سمسٹر کی تقریباً دو لاکھ روپے فیس اسکالرشپ کے باعث ادا کرنا ممکن ہوئی۔





