جنیوا: کشمیری مندوبین کا اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی نگرانی مؤثر بنانے کا مطالبہ
جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر کشمیری مندوبین نے بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جنرل ڈبیٹ کے ایجنڈا آئٹم 2 پر اپنے الگ الگ بیانات میں کشمیری مندوبین ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، شمیم شال، مہرالنسا، ڈاکٹر شگفتہ اشرف اور ڈاکٹر سجاد خان نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی عالمی سطح پر مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
مندوبین نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے، مبینہ خلاف ورزیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے اور بھارت پر قانونی تقاضوں، منصفانہ عدالتی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
کشمیری مندوبین نے انسانی حقوق کے محافظوں اور سیاسی کارکنوں کو مبینہ طور پر ہراساں اور خوف زدہ کیے جانے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی وکالت اور سیاسی اظہارِ رائے سے وابستہ افراد کے عدالتی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ہائی کمشنر کی عالمی صورتحال سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مندوبین نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ میں جموں و کشمیر میں حراست اور قید کی صورتحال کو مناسب طور پر اجاگر نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق رواں سال اگست تک 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا جا چکا تھا، جبکہ خطے کی جیلوں میں 3,600 قیدیوں کی منظور شدہ گنجائش کے مقابلے میں 5,300 سے زائد قیدی موجود تھے۔
مندوبین نے کشمیری سیاسی رہنما یاسین ملک کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے حال ہی میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں سزائے موت کی استدعا، جبکہ مبینہ جرم میں ملوث ہونے سے انکار، عدالتی عمل پر اعتماد کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے یاسین ملک سمیت دیگر کشمیری سیاسی قیدیوں کی مسلسل قید اور ان کے خلاف جاری مقدمات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور من مانی گرفتاریوں، آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل نگرانی کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھایا۔
کشمیری مندوبین نے بھارت پر کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال میں ایسی مبینہ تبدیلیاں لانے کا الزام بھی عائد کیا جو ان کے بقول خطے کی شناخت اور آبادی کے تناسب کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز سمیت دیگر افراد کو مبینہ طور پر درپیش نگرانی اور پابندیوں کی بھی مذمت کی۔
مندوبین نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں سے متعلق مقدمات کی مؤثر نگرانی کریں اور انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور منصفانہ عدالتی عمل کے احترام کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھایا جائے۔
واضح رہے کہ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR) کے چیئرمین الطاف حسین وانی کی قیادت میں کشمیری وفد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا میں موجود ہے۔