ماسکو: افغانستان، پاکستان تنازع کے خاتمے کے لیے روس ثالثی پر تیار، کابل کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کا اعلان
ماسکو: روس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کی درخواست پر سیاسی اور سفارتی تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کردی ہے۔
افغانستان کے لیے روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے ماسکو فارمیٹ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کی درخواست ضروری ہوگی۔
کابلوف کے مطابق افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جاسکا۔ اجلاس میں شریک تمام فریقوں نے کابل اور اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں سے گریز کریں، کیونکہ ایسے تنازعات میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
روسی نمائندے نے کہا کہ ماسکو سیاسی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کے حل میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
دوسری جانب روس نے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کی راہ میں موجود سابقہ رکاوٹیں ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی براہ راست شرکت کو ماسکو فارمیٹ میں خصوصی اہمیت حاصل ہے اور یہ پلیٹ فارم افغانستان سمیت خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر ثابت ہورہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر افغان عوام کو مبارکباد دی جبکہ روسی وزارت خارجہ کے مطابق منشیات کے خاتمے اور سکیورٹی کے شعبے میں اسلامی امارت کے اقدامات کو بھی سراہا گیا۔
روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کی جانب سے اسلامی امارت افغانستان کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ریاستی سطح پر تعاون کی سابقہ رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
ادھر افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے ماسکو میں روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک سے ملاقات کی، جس میں سیاسی مفاہمت کے ساتھ اقتصادی، تجارتی، ٹرانزٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مولوی امیر خان متقی نے افغانستان کے حوالے سے روس کی مثبت پالیسی پر روسی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی مفاہمت کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
افغان وزیر خارجہ نے تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کے فروغ، افغانستان میں روسی سرمایہ کاری، توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں، جبکہ بینکاری اور ادائیگیوں کی سہولتوں کے قیام پر زور دیا۔
روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے افغانستان کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عملی تعاون شروع کرنے کے لیے موزوں حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ٹرانزٹ، نقل و حمل، توانائی اور دیگر شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اوورچک نے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال تجارت میں نمایاں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں افغانستان اور روس کے درمیان عملی اقتصادی شراکت داری مزید وسعت اختیار کرے گی۔