بارش نے اٹک کی بیوٹیفکیشن کا پول کھول دیا، گیٹ تالاب اور قیمتی ٹائلیں پانی میں ڈوب گئیں، تاجروں کے کاروبار متاثر
اٹک: اٹک میں بیوٹیفکیشن کے نام پر شہر کے مختلف مقامات پر نصب کیے گئے گیٹ اور سڑکوں پر بچھائی جانے والی قیمتی ٹائلیں بارش کے بعد شہریوں کے لیے سوالیہ نشان بن گئیں۔ تاریخی فوارہ چوک میں نصب گیٹ کے اندر بارش کا پانی جمع ہونے سے ایسا منظر بن گیا جیسے شالیمار باغ لاہور کے تالاب ہوں۔
صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب کے ضلعی صدر مقامات اور بعض تحصیلوں میں مارکیٹوں کو جدید خطوط پر خوبصورت بنانے کے اقدامات کے تحت اٹک میں بھی شہر کے اہم راستوں پر گیٹ نصب کیے گئے اور بیوٹیفکیشن کا کام کیا گیا، تاہم مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے شہر کے اہم تجارتی مراکز متاثر ہوئے اور متعدد کاروباری افراد مشکلات کا شکار ہیں۔
تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اے ڈی سی میونسپل انیل سعید نے بلدیہ اٹک میں اجلاس طلب کیا، تاہم تاجروں کی آمد کے بعد انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے ضروری میٹنگ کا کہہ کر اجلاس چھوڑ دیا، جس کے بعد اجلاس کی صدارت چیف آفیسر بلدیہ سردار آفتاب احمد خان نے کی۔ اجلاس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ذمہ داری سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔
دوسری جانب مقامی سطح پر بعض حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ تاجر تنظیمیں ضلعی انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت کرتی رہی ہیں، جس کے باعث تاجروں کے حقیقی مسائل مؤثر انداز میں سامنے نہیں آ سکے۔ بعض دیگر اضلاع میں نصب کیے گئے گیٹ ہٹائے جانے کے باوجود اٹک میں گیٹ برقرار رکھنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ریڑھی بانوں کو کاروبار سے محروم کیے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس حوالے سے بھی تاجر تنظیموں اور مقامی سیاسی قیادت کی جانب سے مؤثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔
سابق ضلع ناظم میجر طاہر صادق نے اٹک کے بازار کا دورہ کرکے تاجر تنظیموں کو مسائل کے حل کے لیے کام کرنے اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم نے بھی بازار کا دورہ کرتے ہوئے گیٹوں پر سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ گیٹ اکھاڑ کر کالا چٹا پہاڑ میں پھینک دیں گے۔
تاہم تاجر تنظیموں کی جانب سے دونوں سیاسی رہنماؤں کو کوئی باضابطہ درخواست نہ دیے جانے اور ان کے دوروں کے دوران تاجر رہنماؤں کی عدم موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ خوبصورتی کے منصوبوں کا بنیادی مقصد شہریوں اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، اس لیے بیوٹیفکیشن کے ساتھ نکاسی آب، ٹریفک کی روانی اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔