گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا لائحہ عمل تیار، روڈ میپ رواں ماہ وزیراعظم کو پیش ہوگا وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت گیس سیکٹر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا،

گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا لائحہ عمل تیار، روڈ میپ رواں ماہ وزیراعظم کو پیش ہوگا

اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے گیس سیکٹر کی ڈی ریگولیشن اور اصلاحات کا لائحہ عمل تیار کرلیا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت گیس سیکٹر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر سمیت ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل اور اوگرا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں سوئی کمپنیوں کی تنظیم نو اور اَن بنڈلنگ کو اصلاحاتی منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اصلاحات کے تحت سوئی کمپنیوں کے ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور انرجی کاروبار الگ کیے جائیں گے۔

حکومت نے گیس سبسڈی کے موجودہ نظام کو ازسرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صرف مستحق صارفین کو ٹارگیٹڈ ریلیف فراہم کیا جاسکے، جبکہ گیس مارکیٹ میں مارکیٹ کلیئرنگ پرائس کی جانب مرحلہ وار پیش رفت کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق عالمی بینک نے گیس سیکٹر اصلاحات کے لیے تکنیکی معاونت اور بین الاقوامی تجربات فراہم کیے ہیں۔ گیس سیکٹر اصلاحات کا روڈ میپ رواں ماہ منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا، وزیراعظم کی منظوری کے بعد اصلاحات پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع ہوگا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت گیس سیکٹر میں مسابقتی، شفاف اور مؤثر مارکیٹ قائم کرے گی۔ ڈی ریگولیشن کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نظام بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اوگرا کے کردار کو مزید مضبوط بنا کر مسابقتی گیس مارکیٹ کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ گیس سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور شمولیت کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

علی پرویز ملک کے مطابق گیس سیکٹر اصلاحات سے توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا اور قیمتوں میں شفافیت پیدا ہوگی۔ اصلاحاتی پروگرام سے سوئی کمپنیوں کا مالی مستقبل مستحکم ہونے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں