9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس، تیمور سلیم جھگڑا سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتیں واپس، سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی
پشاور: انسداد دہشت گردی عدالت میں 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں پی ٹی آئی رہنماؤں تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عامر چمکنی اور عرفان سلیم نے اپنی عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔
اے ٹی سی جج ولی محمد خان نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر خوشحال خان عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے کا چالان جمع کرانے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
چاروں رہنماؤں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کو کیس میں مستقل طور پر نامزد نہیں کیا گیا، ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری نہیں ہوئے جبکہ پولیس کی جانب سے نامزدگی سے متعلق چالان بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے چاروں رہنماؤں کو عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی اجازت دے دی۔
پراسیکیوشن کے مطابق 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو آگ لگائی گئی اور نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے مقدمے میں 80 سے زائد ملزمان کو نامزد کیا ہے، جن میں پی ٹی آئی کے موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ریڈیو پاکستان سے متعلق شواہد کی یو ایس بی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کو تصدیق کے لیے بھیجی گئی ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی پیش رفت رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، عرفان سلیم اور عامر چمکنی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔