مخدوم جاوید ہاشمی کا گھر کے باہر مبینہ پولیس کارروائی، بجلی چوری کے مقدمے پر گرفتاری دینے کا اعلان
ملتان: سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے خلاف بجلی چوری کے مقدمے کے بعد گرفتاری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے گھر میں موجود ہیں، پولیس انہیں گرفتار کرلے، وہ ضمانت نہیں کرائیں گے۔
اپنے بیان میں مخدوم جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ ان کے اور ان کے دامادوں مخدوم زاہد بہار ہاشمی اور بیرسٹر مخدوم شاہزیب ہاشمی کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’مجھے گرفتار کرلیں، میں ضمانت بھی نہیں کراؤں گا، جو بھی الزام لگائیں، میں ضمانت نہیں کراؤں گا۔ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں، آئیں اور گرفتار کریں، نہ کہیں چھپوں گا اور نہ کہیں جاؤں گا۔‘‘
مخدوم جاوید ہاشمی نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ بعض افراد ان کے گھر کے باہر آئے اور ان کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ ان کے ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے گھر کے بجلی کے میٹرز اور ٹرانسفارمرز اتار لیے گئے، جس کے باعث ان کا خاندان بجلی سے محروم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹیوں، نواسی اور اہلیہ کو محاصرے کی صورتِ حال کا سامنا ہے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر کسی شہری کے خلاف قانونی کارروائی مطلوب ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاہم خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا اور پورے خاندان کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا قابل مذمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ گرفتاری دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے ملازمین کو رہا کیا جائے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے ریاستی اداروں اور حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی شہری کے گھر کے تقدس کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔
واقعے کے حوالے سے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔