


مخدوم جاوید ہاشمی ریاستی جبر اور حکومتی لاقانونیت کا نشانہ بن رہے ہیں، حفیظ اللہ نیازی
لاہور: معروف تجزیہ کار اور کالم نگار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی ایک بار پھر ریاستی ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں، حکومتی اقدام نہ صرف شرمناک بلکہ بربریت کی دردناک مثال ہے۔
اپنے بیان میں حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری آئین اور قانون کی پاسداری ہے، اگر حکومت ہی قانون کو پامال کرنے لگے تو یہ محض انتقامی بے ضابطگی نہیں بلکہ ریاستی اختیار کے ناجائز استعمال اور آئین کی روح سے صریحاً انحراف کی بدترین مثال ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پرسوں رات مخدوم رشید، ملتان میں باوردی پولیس اہلکار ملک کے معروف بزرگ سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی کی رہائش گاہ پر داخل ہوئے۔ بظاہر پولیس مخدوم جاوید ہاشمی کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، تاہم کارروائی کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا اور گھر میں موجود خواتین کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا گیا۔
حفیظ اللہ نیازی کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی کے کمپاؤنڈ میں ان کی متعدد بیٹیاں اپنے بچوں کے ہمراہ الگ الگ گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ پولیس نے مبینہ طور پر کمپاؤنڈ میں موجود تمام گھروں کے بجلی کے میٹر اتار کر اپنے ساتھ لے لیے، جس کے نتیجے میں پورا خاندان گزشتہ دو روز سے بجلی سے محروم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بزرگ، خواتین اور کم سن بچے شدید گرمی میں اذیت برداشت کرنے پر مجبور ہیں، نہ گھروں میں روشنی ہے، نہ پنکھے چل رہے ہیں اور نہ ہی معمولاتِ زندگی برقرار رہ سکے ہیں۔
حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی سزا کی بدترین مثال ہے، جبکہ ریاستی طاقت کا اس طرح استعمال قانون، انصاف اور تہذیب کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری کے خلاف قانونی کارروائی مطلوب ہو تو آئین اور قانون اس کے لیے واضح طریقۂ کار فراہم کرتے ہیں، تاہم پورے خاندان کو مبینہ طور پر غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے بنیادی سہولت سے محروم رکھنا قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مخدوم جاوید ہاشمی کے کمپاؤنڈ کے تمام بجلی کے میٹر بلا تاخیر بحال کیے جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔