اسلام آباد: سی ڈی اے کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات، ریڈ زون میں کارروائی نہ ہونے کا دعویٰ
اسلام آباد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں میں اسلام آباد کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دعووں کے مطابق سی ڈی اے کی انفورسمنٹ ٹیم بھاری مشینری کے ساتھ ریڈ زون (ڈپلومیٹک انکلیو) میں واقع مبینہ غیر قانونی تعمیر Bonte Cafe کے خلاف آپریشن کے لیے پہنچی، تاہم مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی مداخلت کے باعث کارروائی کیے بغیر واپس لوٹ گئی۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ کیفے کے مالکان میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی کے صاحبزادے، ایک سینئر پولیس افسر اور بری امام سے تعلق رکھنے والی ایک بااثر شخصیت کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔ مزید یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ اراضی اصل میں اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی ڈویژن کے افسران و اہلکاروں کی بیرکس کے لیے مختص تھی، جہاں بعد ازاں مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کی گئیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے صید پور ویلج سمیت دیگر علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے عام شہریوں کے مکانات مسمار کر رہی ہے، جبکہ بااثر افراد کے خلاف یکساں کارروائی نظر نہیں آتی، جس پر شفافیت اور قانون کے یکساں نفاذ سے متعلق سوالات جنم لے رہے ہیں۔
نوٹ: مذکورہ الزامات سوشل میڈیا اور غیر سرکاری ذرائع پر مبنی ہیں۔ ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس معاملے پر سی ڈی اے یا جن افراد کے نام لیے گئے ہیں، ان کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔