بلوچستان میں پابندی کے باوجود اسمگل شدہ ایرانی تیل کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے رہائشی علاقوں میں قائم منی پیٹرول پمپس کے باعث ائےروز حادثات بھی پیش ا رہے ہیں جس کے باعث انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔

بلوچستان میں پابندی کے باوجود اسمگل شدہ ایرانی تیل کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے رہائشی علاقوں میں قائم منی پیٹرول پمپس کے باعث ائےروز حادثات بھی پیش ا رہے ہیں جس کے باعث انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔

*

پاک ایران سرحدی علاقوں کے ان دشوار گزار پہاڑی راستوں سے ایرانی ساختہ زامبیاد گاڑیوں میں یہ ایرانی تیل گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران سے یہاں سمگل کیا جاتا ہے ایرانی سرحد سے متصل ماشکیل، تربت، مند، پنجگور اور بلوچستان کے دیگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں مقیم 80 فیصد سے زائد مقامی آبادی کے روزگار کا واحد ذریعہ یہی ایرانی تیل ہے ۔ایرانی پیٹرول اور ڈیزل پاک ایران سرحدی علاقے سراوان اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں مخصوص ڈبو اورتیلوں میں پیکنگ کے بعد کوئیٹہ سمیت اندرونی بلوچستان اور بعد میں ملک کے دیگر حصوں میں سمگل کیا جاتا ہے

ایرانی تیل سے لوڈ چھوٹی گاڑیوں اور ٹرکوں کے ڈرائیور تیل کی سپلائی کے لیے مین شاہراہوں کے بجائے دشوار گزار پہاڑی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں اسی لیے اکثر اوقات یہ گاڑیاں حادثات کا شکار ہو جاتی ہیں

ایرانی تیل کی خرید و فروخت کا یہ غیر قانونی کام صوبے کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی سرعام کیا جاتا ہے اور شہر کے مختلف نواحی علاقوں میں ایسے درجنوں منی پیٹرول پمپس قائم ہیں جہاں ایرانی تیل اور پیٹرول فروخت کیا جاتا ہے

ایرانی تیل کی سمگلنگ روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اقدامات تو کیے جا رہے ہیں لیکن ان کارروائیوں سے اس غیر قانونی کام کا خاتمہ تاحال ممکن نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں