خاتون صحافی آسیہ گلفام کو ورک پلیس پر ہراساں کرنے کی شدید مذمت، آر آئی یو جے کا واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ

خاتون صحافی آسیہ گلفام کو ورک پلیس پر ہراساں کرنے کی شدید مذمت، آر آئی یو جے کا واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد (پ ر) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) نے نیو نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے اسائنمنٹ ایڈیٹر اور خاتون صحافی آسیہ گلفام کو مبینہ طور پر ورک پلیس پر ہراساں کرنے اور ڈائریکٹر نیوز نصر اللہ ملک کی جانب سے انتظامی اجلاس میں مبینہ طور پر سرعام بدزبانی کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔

آر آئی یو جے کے صدر طارق عثمانی، جنرل سیکرٹری رضوان غلزئی اور ایگزیکٹو کونسل کے اراکین نے کہا ہے کہ میڈیا اداروں میں صحافیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرکے کام لینے اور کئی کئی ماہ تنخواہیں ادا نہ کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

یونین قیادت کے مطابق میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ کی جانب سے کارکن صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور بعض ادارے عملاً بیگار کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

آر آئی یو جے قیادت نے کہا کہ ساتھی کولیگ، بالخصوص خاتون صحافی کی سرعام تذلیل کے مبینہ واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ یونین کے مطابق واقعہ سے دل برداشتہ ہو کر آسیہ گلفام نے 9 سالہ صحافتی کیریئر ختم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔

یونین نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے مطالبہ کیا کہ نیو نیوز میں کارکن صحافیوں کے خلاف مبینہ رویے کی انکوائری کرائی جائے، جبکہ بے روزگار ہونے والی خاتون صحافی آسیہ گلفام کے لیے فوری روزگار کا بندوبست کیا جائے۔

آر آئی یو جے نے مزید مطالبہ کیا کہ نصر اللہ ملک اور میڈیا ہاؤس انتظامیہ آسیہ گلفام سے معافی مانگیں، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی زندگی کے 9 سال ادارے کی خدمت میں گزارے۔

یونین قیادت نے وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین (فوسپا) سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ورک پلیس ہراسمنٹ کے مبینہ واقعہ کا نوٹس لے کر قانون کے مطابق تحقیقات کرے۔

نوٹ: مذکورہ الزامات آر آئی یو جے کے جاری کردہ بیان میں بیان کیے گئے ہیں؛ متعلقہ فریق کا مؤقف شامل نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں