سوات کے کبل میں خودکش دھماکا، 14 افراد شہید، متعدد زخمی، پشاور میں بھی پولیس موبائل کے قریب دھماکا

پشاور/سوات: خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکا اس وقت ہوا جب کبل چوک میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔

آر پی او ملاکنڈ ڈویژن سید فدا حسن شاہ کے مطابق خودکش حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم پولیس جوانوں نے اسے گیٹ پر ہی روک دیا جس کے بعد حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

پولیس حکام کے مطابق پولیس جوانوں کی بروقت کارروائی کے باعث خودکش حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ کے اندر داخل نہ ہوسکا۔ پولیس کمپاؤنڈ میں کبل پولیس اسٹیشن، سی ٹی ڈی تھانہ، پولیس لائن کبل اور سہولت مرکز قائم ہیں۔

دھماکے کے بعد پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ، ریسکیو ٹیموں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا، جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

دستیاب تازہ رپورٹس کے مطابق حملے میں پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کا ہدف پولیس کمپاؤنڈ اور امن کے لیے جمع ہونے والے مظاہرین تھے۔

محسن نقوی کی شدید مذمت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کبل سوات میں خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خودکش بمبار کو تھانے میں داخل ہونے سے روکا اور جان دے کر دوسروں کی زندگیاں بچانے والوں نے فرض شناسی کی مثال قائم کی۔

انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

گورنر خیبرپختونخوا کی مذمت

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی کبل سوات خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

گورنر نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پولیس کو نشانہ بنانے والے امن دشمن عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، پوری قوم اپنے بہادر پولیس اہلکاروں اور افواج پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بزدلانہ حملوں کے ذریعے قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے اور امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پشاور میں بھی پولیس موبائل کے قریب دھماکا، دو اہلکار زخمی

دوسری جانب پشاور کے جی ٹی روڈ پر پیر زکوڑی پل کے قریب گشت پر مامور پولیس موبائل کو سڑک کنارے گرین بیلٹ میں نصب بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکے سے پولیس موبائل کو نقصان پہنچا جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سی سی پی او کے مطابق دھماکا خیز مواد سڑک کنارے گرین بیلٹ میں نصب کیا گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ایک ہی روز سوات اور پشاور میں پولیس کو نشانہ بنانے والے واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں۔نوٹ: کبل دھماکے کے شہداء میں پولیس اہلکاروں کی تعداد کے حوالے سے ابتدائی رپورٹس میں فرق ہے؛ بعض تازہ رپورٹس 5 پولیس اہلکار جبکہ بعض 8 پولیس اہلکار بتا رہی ہیں۔ اس لیے حتمی سرکاری فہرست آنے تک تعداد کو قطعی انداز میں بیان کرنا مناسب نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں