چمیاٹی سے تعلق رکھنے والے عامر عباسی کو گزشتہ روز اسلام آباد ایئرپورٹ سے حراست میں لیے جانے کے بعد تاحال ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جو کہ شدید تشویش کا باعث ہے۔ کسی بھی شہری کو بغیر اطلاع اور قانونی عمل کے تحویل میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
اگر عامر عباسی کے خلاف کوئی مقدمہ موجود ہے تو متعلقہ اداروں پر لازم ہے کہ قانون کے مطابق انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے یا قانونی دائرہ اختیار کے مطابق کشمیر پولیس کے حوالے کیا جائے۔ ماورائے قانون اقدامات نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔عامر کے ورثہ کا احتجاج ان کی بے بسی اور انصاف کی طلب کا عکاس ہے۔ ذمہ دار حکام کو چاہیے کہ فوری طور پر صورتحال واضح کریں اور نوجوان کو بازیاب کروا کر قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائیں۔