‏ہاں میں نے اسکو ق۔تل کیا سینے اور سر پر گو۔لی ماری ، کیونکہ وہ اسی قابل تھا

‏ہاں میں نے اسکو ق۔تل کیا سینے اور سر پر گو۔لی ماری ، کیونکہ وہ اسی قابل تھا ۔ پچھلے ماہ شاہدرہ میں ایک ہوٹل میں گو۔لی چلنے کی آواز آئی ، انتظامیہ کمرے چیک کرتی رہی کہ گو۔لی کہاں چلی اس کام میں ایک گھنٹے سے زاید کا وقت لگا اس دوران ملزمہ علینہ اپنے دوست کو ق۔تل کرکے باآسانی فرار ہو گئی اسکے ہوٹل میں آنے اور جانے کا ثبوت سی سی ٹی وی ویڈیوز سے مل گیا ۔۔۔ 72 گھنٹے بعد پولیس نے ملزمہ کو اسکے گھر سے گرفتار کرلیا ، ملزمہ سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے پولیس کو بتایا ہاں میں نے ق۔تل کیا ہے کیونکہ اس منحوس کو قتل کرنا میرے اوپر واجب ہو چکا تھا ، یہ شخص مجھے نوچ رہا تھا ، 1 سال پہلے اسکے ساتھ رابطہ ہوا سمجھی کہ اچھا انسان ہے اس کے ساتھ دوستی میں کیا مضائقہ ہے لیکن وہ تو ایک جنونی ہوس کا پجاری نکلا ، ہر دوسرے دن ملاقات پر مجبور کرتا ملاقاتوں میں غیر اخلاقی تصویریں اور ویڈیوز بنا لیتا ، جب اس کی ہوس بڑھنے لگی تو میں ملنے سے انکار کرتی جس پر وہ دھم۔کی دیتا کہ نہ آئی تو تمہاری ویڈیوز وائرل کردونگا پھر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گی ۔۔۔ میں نے پھر بھی کوشش کی ،اسے پیشکش کی جس روپ میں چاہو مجھے سامنے پاؤ لیکن میری ویڈیوز ڈیلیٹ کردو لیکن کوشش کے باوجود اپنی تصویریں اور ویڈیوز ڈیلیٹ نہ کروا سکی ۔اسکے بعد طے کر لیا کہ اس بے غیرت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، یوٹیوب سے پستو۔ل چلانا سیکھا ۔ پستو۔ل گھر سے لائی جو کہ والد کا اور لائسنسی تھا اوردوست کے بلانے پر ہوٹل گئی ، آخری بار کوشش کی کہ وہ میری ویڈیوز ڈیلیٹ کردے لیکن اس کا جواب تھا مجھے وہ کام مت کہو جو میں نہیں کرونگا ، بس پھر فیصلہ کر لیا اس کے سر اور سینے میں گو۔لیاں ماریں اور آدھے گھنٹے بعد اسکے مرنے کی تسلی کرکے ہوٹل سے نکل گئی ، ہوٹل والوں نے دروازہ ناک کیا تھا لیکن میں نے کہا گو۔لی کی آواز ہمارے روم سے نہیں اوپر سے آئی ہے ۔یوں وہ کمرہ تلاش کرتے رہے اور مجھے باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ ذرائع کے مطابق ایم اے کی طالبہ علینہ کے اعترافی بیان کے بعد اسے چالان کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں